کراچی (آن لائن)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کے الیکٹرک کی نااہلی و ناقص کارکردگی اور اہل کراچی کو بدترین لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ کے دہرے عذاب سے مسلسل دوچار رکھنے کے باوجوداس کے لائسنس میں 6ماہ کی عبوری توسیع کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کے الیکٹرک کو ایک بار پھر کراچی کے عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس عوام دشمن کمپنی کو اپنی لوٹ مار جاری رکھنے کے لیے دوبارہ6ماہ کا مزید لائسنس دینا اور مسلط کرنا اہل کراچی کے ساتھ سراسر ظلم و زیادتی ہے۔ جماعت اسلامی اسے ہرگز قبول نہیں کرے گی،وفاقی حکومت اور نیپرا کے الیکٹرک کی سرپرستی کا عمل بند کریں۔ حافظ نعیم الرحمن نے بجلی کے بلوں میں ٹی وی لائسنس فیس کے ساتھ ریڈیو لائسنس فیس کی بھی وصولی کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت عوام سے اس ناجائز اور غیر قانونی وصولی کا فیصلہ واپس لے، حافظ نعیم الرحمن نے اپنے ایک بیان میں مزید کہا ہے کہ شہر میں جاری بدترین لوڈشیڈنگ، بجلی کے بھاری بلوں اور کے الیکٹرک کی مہنگی ترین بجلی کے حوالے سے ہمارا واضح اور دو ٹوک مطالبہ رہا ہے کہ کے الیکٹرک کے لائسنس کی تجدید ہر گز نہ کی جائے اورترسیلی عمل میں دیگر کمپنیوں کو بھی شامل کیا جائے،کے الیکٹرک 662ارب روپے این ٹی ڈی سی کا اور 177ارب روپے سوئی سدرن گیس کمپنی کا نا دہندہ ہے جبکہ کلاء بیک کی مد میں تقریباً 50ارب روپے اہل کراچی کے اس کو ادا کرنے ہیں اس لیے اسے قومی تحویل میں لے کر فارنزک آڈٹ کروایا جائے، قومی اداروں اور عوام کے اربوں روپے اس سے وصول کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومت اور نیپرا نے کے الیکٹرک کی بدترین لوڈشیڈنگ، بھاری بلوں، نا اہلی و ناقص کارکردگی اور مہنگی ترین بجلی پر ہمیشہ مجرمانہ طور پر خاموشی اختیار کی ہے، پیپلز پارٹی 15سال سے سندھ حکومت میں ہے اور موجودہ اتحادی حکومت میں بھی وفاقی حکومت کا حصہ ہے،وہ بتائے اس نے کراچی کے عوام کو کے الیکٹرک کی لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ سے نجات کے لیے کیا کیا؟ سلیکٹڈ میئر بھی کے الیکٹرک کے خلاف اور کراچی کے عوام کے حق میں لب کشائی کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ قومی اداروں اور اہل کراچی کا نا دہندہ ہونے کے باوجود کے الیکٹرک کو ہر سال اربوں روپے کی سبسیڈی دی جاتی ہے،کے الیکٹرک نے بجلی کی پیداواری صلاحیت میں معاہدے کے مطابق کوئی اضافہ نہیں کیا جبکہ طلب میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، کے الیکٹرک نے لائین لاسز میں کمی اور ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی عملاً کچھ نہیں کیا۔ عوام کو ملک کے دیگر علاقوں سے زیادہ مہنگی بجلی فراہم کی جارہی ہے اور عوام مہنگی بجلی لینے پر مجبورہیں۔ کے الیکٹرک کی سرپرستی میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سمیت تمام پارٹیاں شامل ہیں، صرف جماعت اسلامی ہے جو کے الیکٹرک کے خلاف اہل کراچی کا مقدمہ لڑ رہی ہے اور اس کی لوٹ مار کے خلاف مسلسل جدو جہد کر رہی ہے، کے الیکٹرک کے ستائے عوام سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں لیکن حکومت اور نیپرا کی جانب سے عوامی مشکلات و پریشانیوں اور احتجاج کا کوئی نوٹس لینے کے بجائے اس کے لائسنس میں مزید 6ماہ کی توسیع کر دی گئی جو کسی صورت بھی کراچی کے عوا م کے حق میں درست فیصلہ نہیں.
Load/Hide Comments



