کوئٹہ(آن لائن)وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ بلوچستان آدھا پاکستان ہے ہمیں این ایف سی ایوارڈ کے تحت اتنے فنڈز نہیں ملتے کہ ہم لوگوں کے مسائل حل کر سکیں محدود فنڈز کے حامل بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے برابر لانا ممکن نہیں جب بھی وفاق میں نئی حکومت آتی ہے بلوچستان کی پسماندگی کی بات کی جاتی ہے بدقسمتی سے پسماندگی کے خاتمے کے لیئے عملی اقدامات نہیں کیئے جاتے،اختیار و اقتدار رکھنے والوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ باقی صوبے آگے گئے تو بلوچستان کیوں پیچھے رہ گیا۔بلوچستان کی غربت اور پسماندگی کی بنیادی وجہ فنڈز کی عدم دستیابی اور عدم توجیحی ہے یہ وہ صوبہ ہے جو آدھا پاکستان ہونے کے باوجود پسماندہ بھی ہے این ایف سی ایوارڈ میں جو شئیر ہمیں ملتا ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے.آدھے پاکستان کو سکیورٹی دیناایک بہت بڑا چیلنج ہے جس پر ہمارے وسائل کے 40 فیصد فنڈز خرچ ہو جاتے ہیں اپنے جارہ کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر ہم یہ سیکیورٹی برقرار نہ رکھیں تو اسکا اثر دیگر صوبوں پر بھی پڑے گا۔یہ وہ حقائق ہیں جن سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی اور انہیں سنجیدگی سے دیکھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے۔جن لوگوں کو عوام نے منتخب کیا ہے ہمیں ان کا حق نہیں مارنا چاہیے۔سیاسی مخالفت اپنی جگہ لیکن منتخب نمائندؤں کو انکے علاقوں کی ترقی کا حق ملنا چاہیے۔ہم سب کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پورے بجٹ سیشن میں کوئی مخالفت نظر نہیں آئی۔میرا طریقہ کار اور لوگوں سے ملنا جلنا ایک الگ انداز کا ہے۔میں اپنے دوستوں کے ساتھ ہر وقت کھڑا ہوتا ہوں۔ہم اپنی حدود میں رہتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ہمیں غلط نظر سے نہ دیکھا جائے ہر صوبہ اپنا حق مانگتا ہے ہم بھی مانگ رہے ہیں۔ہمارے دو ٹوک اور ٹھوس موقف سے بہت سی چیزیں بہتر ہوئی ہیں جنہیں ہم تسلیم بھی کرتے ہیں۔2015 سے پی پی ایل کے تعطل کا شکار معاملات میں پیش رفت کی توقع ہے۔صوبے احتجاج کرتے رہتے ہیں یہ ایک معمول کی بات ہے۔ترقیاتی مد میں ہمیں 120 ارب روپے دستیاب ہو تے ہیں۔اگر ترقیاتی فنڈز میں 300 ارب روپے تک اضافہ کیا جائے تو صوبے اور عوام کی بہتری کے لیے اچھا کام ہوگا۔ریکوڈک کے معاہدے پر تمام پارٹیوں کو آن بورڈ لیا اور حل بھی مل کر تلاش کیا۔ہم نے یہ سوچا کہ اس مسئلے کو سب کے سامنے رکھا جائے۔ریکو ڈک معاہدے کو سامنے لانے کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو یہ احساس نہ ہو کہ ہم کوئی چوری کر رہے ہیں۔ہم جو بھی مانگتے ہیں مالک کائنات سے مانگتے ہیں کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے ہیں۔وزیراعظم نے سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کے لیے 10 ارب روپے کا جو وعدہ کیا تھا وہ بھی ہمیں نہیں ملے۔ہمارے اپنے پاس بھی وسائل کم تھے لیکن ڈونر ایجنسیوں نے اس موقع پر ہمارا خوب ساتھ دیا .
Load/Hide Comments



