اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا ء اللہ نے کہا ہے کہ 9مئی کے واقعات میں ملوث تمام افراد کے کیسز فوجی عدالتوں میں نہیں چلیں گے۔ فوجی تنصیبات پر حملوں کے صرف 7مقدمات درج کیئے گئے ہیں جن میں سے 6کو پراسیس کیا جارہا ہے۔کوئی نئی فوجی عدالتیں نہیں بن رہی،فوجی املاک پر حملوں میں ملوث افراد کو ملٹری کورٹس کے حوالے کیا گیا ہے۔ اس معاملے پر کوئی معافی اور سمجھوتہ نہیں ہو گا اور نہ ہی حکومت اور کسی ادارے کے سربراہ کو ایسے کیسز میں ملوث لوگوں کو چھوڑنے کا اختیار ہے۔ 9مئی کو سیاسی احتجاج نہیں باقاعدہ منصوبہ بندی سے سب کچھ کیا گیا، تحریک انصاف کے لوگ اپنی مرضی سے پارٹی چھوڑ رہے ہیں کئی لوگوں سے تو جیل کی گرمی بھی برداشت نہیں ہو رہی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ جس نفرت اور بغض کی سیاست کا آعاز 2014 کے دھرے اور گزشتہ ایک سال سے کی جا رہی ہے سیاسی مخالفین کق گالیاں دینے سیاسی مقاصد کو جہاد کا نام دینے کو پروان چڑھایا گیا۔یہ نفرت کی سیاست ایک ناسور کی طرح پاکستان میں داخل کی جا رہی تھی،اس سازش میں ایک پروگرام کے اندرون اور بیرونی طاقتوں کے ساتھ کام کیا جا رہا تھا،25 مئی کو اسلام آباد کا گھراو کر کے ملک کے کیپٹل کو سیل کرنا تھا،اپنے ہی قتل کی کہانیاں گھڑنا حساس اداروں کے افسراننامزد کر کے تقاریر کرنا،اسمبلیوں کو توڑنے کے بعد پھر اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کرنا،لوگوں کو باقاعدہ ٹرین کیا گیا تاکہ وہ ریاست اور اداروں پر حملہ کرنا،یہ فتنا جو اس ملک کو اور قوم کو کسی حادثے سے دوچار کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ان واقعات کی بنیاد پر یہ کہا نہیں جا سکتا لیکن اللہ کو قوم کی بھلائی کرنا تھا اس فتنے نے خود اپنی حرکتوں سے اپنے آپ کو ختم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نو مئی کو جو واقعات ہوئے ہیں ان کے متعلق مختلف قیاس آرئیاں کی جارہی ہیں آج میں سب کے سامنے سچ رکھنے جا رہا ہوں ان حقائق میں خود پوری ذمہ د اری لوں گا اس میں جو واقعات ہوئے ہیں اس میں پورے پاکستان میں 499 مقدمات درج کئے ہیں، 88 مقدمات انسداد دہشت گردی کے تحت درج کیئے گئے ہیں سیون اے ٹی اے کیسز میں پورے ملک میں 3946 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے،کے پی کے سے 11 دو افراد کو گرفتا ر کیا گیا جبکہ دیگر کیسسز میں 5536 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہیں ان میں سے اکثریت ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ 500 مقدمات میں سے صرف 6 مقدمات ایسے ہیں جنکو پراسیس کیا جا رہا ہے ان میں سے دو پنجاب اور 4 کے پی کیمیں کئے جا رہے ہیں ان 6 مقدمات کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں کیا جا سکتا ہے ٹوٹل ملزمان کی تعداد 19 ہے جو اب پنجاب میں ملٹری کورٹ کو دئے گئے ہیں 14 ملزمان کو کے پی کے سے ملٹری کورٹ کے حوالے کیا گیا ہے۔ان کیسز میں دیکھا جائے گا کہ کہاں کہاں ملٹری ایکٹ لگتا ہے ان کیسز میں تحقیقات ہوں گی دیکھا جائے گا کہ کون سیکرٹ ایکٹ میں اور کن کیس ملٹری ایکٹ کے تحت ہو گا۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ کہا جا رہا ہے ملٹری ایکٹ کس طرح لگایا جا سکتا 1952 کے تحت کسی بلڈنگ یا کوئی آفس یا کوئی ایریا جو ڈیفنس سے متعلقہ ہو اور وہاں حساس تنصیبات ہیں ہوں جو ریاست کے دفاع کے لئے ہوں اگر کوئی شخص جااتا ہے تو کوئی یونیفارم پرسن بھی وہاں نہیں جا سکتا ہے اسے ملٹری ایکٹ اور سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزا بنتی ہے،اب بات یہ سولین کی بات کہاں سے آئیں حساس تنصیبات کی توڑ پھوڑ کرنا،توڑ پھوڑ میں تصویریں بنانا ویڈیو بنانا اور انکو پھیلانا ایک جرم ہے اس جرم کو سیاسی احتجاج نہیں کہہ سکتے.
Load/Hide Comments



