لاہور (آن لائن) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صفدر سلیم شاہد نے پاکستان تحریک انصاف وسطی پنجاب کی صدرڈاکٹر یاسمین راشد سمیت 17 خواتین کارکنان کی نظر بندی ختم کر دی۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگر ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت زیر حراست خواتین کسی فوجداری مقدمے میں مطلوب نہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے، عدالت نے آئندہ سماعت پر فریقین سے جواب طلب کر لیا۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ کہ ڈپٹی کمشنر نے 10 مئی کو ایک حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت یاسمین راشد سمیت درخواست گزاران کی رشتہ دار گھریلو خواتین کو نظر بند کردیا گیا تھا جو کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتی ہیں، ان خواتین کی سرگرمیاں پبلک سیفٹی اینڈ مینٹیننس آرڈر کے دائرہ کار میں نہیں آتیں، نظربندی کے حکم نامے کو کالعدم قرار دیا جائے۔ احمد اویس ایڈووکیٹ نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی میڈیکل ہسٹری پیش کی جس میں کہا گیا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سمیت بیماریوں میں مبتلا ہیں، ایک بزرگ خاتون کو ان کے گھر سے پولیس گھسیٹ کر لے گئی، ایک بزرگ خاتون کیا کسی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے اسی نوعیت کے کیس میں کل نوٹیفکیشن معطل کر کے رہائی کا حکم دیا۔ احمدویس ایڈووکیٹ نے عدالت نے استفسار پر کہا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کو الگ سے چیلنج کر رکھا ہے، ریاست ایک لمیٹڈ کمپنی نہیں بلکہ ماں کی طرح ٹریٹ کرتی ہے، کسی نے غلطی کی تو اسے سدھارنے کیلئے سزا دی جاتی ہے، یہ حکومت الیکشن کرانے کی بجائے لوگوں پر ظلم کر رہی ہے، ڈاکٹر یاسمین راشد سیاسی لیڈر ہیں اور بڑی متحرک ہیں، عمران خان بھی 72 سال کے ہیں اور ایک سیاسی جماعت کو لیڈ کررہے ہیں، کور کمانڈر ہاؤس والی ایف آئی آر میں ڈاکٹر یاسمین راشد کا نام ہی نہیں، نظربندی کے حکم سے پہلے وجوہات بتانا ضروری تھیں،کسی بھی شخص کی آزادی کو اس طرح سے سلب نہیں کیا جاسکتا، عدالت نے استفسار کیا ڈاکٹر یاسمین راشد کیخلاف کیا مواد ہے؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ ایک ویڈیو میں کارکنوں کو کور کمانڈر ہاؤس پر حملے کا کہہ رہی ہیں جس پر عدالت نے کہا تو آپ نے ان کیخلاف مقدمہ درج کیوں نہیں کیا؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ مقدمہ درج کیا گیا ان کے کیخلاف لوگوں کو اکسانے کے الزامات ہیں، انہوں نے متعلقہ فورم سے بھی رجوع نہیں کیا، سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔
Load/Hide Comments



