اسلام آباد (آن لائن)وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف سے پیکیج حاصل کرنے کے لئے بجلی کے نرخ بڑھانے کا فیصلہ کرلیا،بجلی کی فی یونٹ بتدریج قیمت بڑھانے کا شیڈول طے کرلیا گیاجس کے تحت فی یونٹ سرچارج 3 روپے سے بڑھا کر مارچ تک 18 روپے کردیا جائے گا،سرچارج سے 300 یونٹ سے کم کرکے صارفین کو بچانے والی سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،مارچ کے بلوں میں سرچارج لگ کر آنے کا امکان بڑھ گیا،اس اقدام سے جون تک بجلی کی فی یونٹ قیمت 23 روپے 40 پیسے تک بڑھ سکتی ہے،فی یونٹ قیمت کو کم رکھنے کے لئے دی جانے والی سبسڈی پر آئی ایم ایف کا اعتراض مان لیا گیاہے،آئی ایم ایف نے کمرشل اور انڈسٹریل صارفین کی جانب سے سرچارج کے خلاف اعتراض مسترد کردیا تھا،دستاویز کے مطابق پاکستان نے نومبر 2023 تبجلی سہ بنیادوں پر مہنگی کرنے کا پلان دے دیا ہے،آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بجلی 7.91 روپے فی یونٹ مہنگی کی جائے گی،دستاویز کے مطابق فروری تا مارچ تک پہلی سہ ماہی میں 3.21 روپے فی یونٹ مہنگی کی جائے گی، مارچ تا مئی دوسری سہ ماہی میں بجلی مزید 0.69 روپے فی یونٹ مزید مہنگی ہوگی،جون تا اگست تیسری سہ ماہی میں بجلی کے ریٹ مزید 1.64 روپے فی یونٹ بڑھائے جائیں گے، ستمبر تا نومبر چوتھی سہ ماہی میں بجلی کے فی یونٹ ریٹ میں 1.98 روپے کا مزید اضافہ ہوگا،دستاویز میں مزید کہاگیا ہے کہ کسان پیکج کے تحت بجلی کی سبسڈی یکم مارچ سے ختم کرنا ہوگی، کسان پیکج کے تحت سبسڈی ختم کرنے سے 65 ارب روپے کی بچت ہوگی، آئی ایم ایف نے بجلی کے تکنیکی نقصانات میں 16.2 ارب روپے کمی کی شرط عائد کردی،آئی ایم ایف سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ریکوری میں 0.58 فیصد بہتری پر اتفاق کیا گیا ہے،مارچ تک نومبر فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین سے مزید 35 ارب روپے مزید جمع کیے جائیں گے،دستاویز کے مطابق مارچ تا نومبر فیول چارج ایڈسٹمنٹ کی مد میں 14 ارب روپے سیلز ٹیکس کی مد جمع ہوں گے،اذئی ایم ایف نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے وصولیوں کا ہدف 90.4 فیصد مقرر کردیا.
Load/Hide Comments



