دیامر بھاشا ڈیم کی زمین پر قبائل اور خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان حکومتوں میں تنازع

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے دیامر بھاشا ڈیم کی زمین پر قبائل اور خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان حکومتوں میں تنازعے سے متعلق کیس دیامر اور کوہستان کے قبائل میں جرگے کے تحت جھگڑا ختم ہونے پر نمٹا دیا ہے۔ کیس سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دیامر بھاشا ڈیم کی زمین پر تنازعے کے حل سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ دیامر اور کوہستان کے قبائل میں 8 کلومیٹر کی زمین پر دس سال قبل جھگڑا ہوا،گلگت بلتستان کے علاقے تھور اور خیبر پختونخوا کے علاقے ہربان میں قبائل کے تصادم پر 4 افراد جاں بحق ہوئے،جرگے نے قبائل کے جھگڑے پر فیصلہ کردیا اور متاثرین کو 4 کروڑ روپے ادا کردیے گئے،ابھی صرف قبائل کا جھگڑا ختم ہوا، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا حکومت کا تنازعہ ختم نہیں ہوا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہمارے پاس حکومتوں کے جھگڑے نہ لائیں،اب صوبہ میں غیر سیاسی حکومت ہے امید ہے تنازعہ نہیں ہوگا،اگر گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا حکومتوں میں تنازعہ ختم نہ ہوا تو مشترکہ مفادات کونسل میں لے جائیں۔