شہباز گِل کی حفاظتی ضمانت کیلئے دائر درخواست پر عبوری ضمانت میں 13 فروری تک توسیع

لاہور (آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گِل کی حفاظتی ضمانت کے لیے دائر درخواست پر عبوری ضمانت میں 13 فروری تک توسیع کردی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے شہباز گل کی درخواست پر سماعت کی۔ سوموار کو شہباز گل اپنے وکلاء کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ عدالتی حکم پر جوائنٹ سیکرٹری داخلہ نے شہبازگل کی خلاف قائم 12 مقدمات کا ریکارڈ پیش کیا اور کو مقدمات کی تفصیلات بارے بتایا کہ 2 مقدمات بلوچستان،5 سندھ اور5 مقدمات پنجاب میں درج کیے گئے عدالت نے استفسار کیا کہ سیکرٹری کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ پرسیکشن افسر نے دستخط کیوں کیے عدالت نے وفاقی سیکریٹری داخلہ کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ سیکرٹری کی جانب سے دستخط نہ کرنے کا رویہ برداشت نہیں عدالت نے پی ٹی آئی رہنماشہبازگل کی حفاظتی ضمانت میں 13 فروری تک توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر وفاقی سیکرٹری داخلہ کو شہباز گل کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات اپنے دستخط کے ساتھ پیش کرنے کا حکم دے دیا عدالتی کارروائی کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے کہا کہ میں عمران خان کے ساتھ کل بھی تھا آج بھی ہوں اور آئندہ بھی رہوں گا وہ میرے لیڈر ہیں پارٹی پر برا وقت آیا ہے اسوقت آستینوں کے سانپوں کے نام نہیں لوں گا پارٹی کو سنبھلنے دیں وقت آنے پر ایک ایک کا نام سامنے لاو ں گا ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری میرا بھائی ہے اس نے حق سچ کے لیے جیل کاٹی ہے اور وہ پارٹی کا سرمایہ ہیں،انہوں نے کہا کہ بے بیناد مقدمے بنانے اور ڈرانے دھمکانے سے ہم ڈرنے والے نہیں ہیں ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ جب میں امریکا سے اپنا سب کچھ چھوڑ کر یہاں پاکستان آیا تو میں نے یہاں نہ کوئی مال بنایا، میں نے نہ تنخواہ لی نہ کچھ اور لیامیں یہاں ایک نظریہ لیکر آیا تھا جس پر آج بھی کھڑا ہوں اور عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں، یہاں جو لوگ کہتے اور اعلان کرتے ہیں کہ وہ تنخواہ نہیں لیتے وہ تنخواہ کے علاوہ اور بہت کچھ لیتے ہیں بلکہ امیر لوگ اپنے پاس سے پیسے دیکر سیٹ پر لیتے ہیں اور پھر اس پر بیٹھ کر بہت کچھ حاصل کرتے ہیں، ڈی سی اور ڈی پی اوز لگوانے کے پیسے لیتے ہیں اور بہت کچھ کماتے ہیں.