لاہور (آن لائن)پاکستان تحریک انصاف نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے اہم قومی مسائل پر 7 فروری کو بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا،رہنما پی ٹی آئی اسدعمرنے کہا ہے کہ یہ اتنا بڑا ڈرامہ کیا جا رہا ہے کہ وہی تحریک انصاف جس کے لیڈرز اور ساتھیوں کو قید کیا جا رہا ہے، جس کے چیئرمین کو نااہل اور گرفتار کرنے کی ہر کوشش کی جا رہی ہے، یہ قوم کو مل کر بے وقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ہم تو چاہتے ہیں کہ قومساتھ چلے تو ان کو شرم آنی چاہیے، یہی الیکشن کمیشن 33اراکین قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کا اعلان پہلے ہی کر چکا ہے اور اگلے چند دن کے اندر 23 سے زائد اراکین قومی اسمبلی کے الیکشن کا اعلان بھی کردے گا۔لاہور ہائی کورٹ کے باہر شبلی فراز اور وکلا کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے تین آپشن موجود ہیں کہ یا تو گورنر تاریخ کا اعلان کرے، یا اعلان الیکشن کمیشن کرے، الیکشن کمیشن لکھ کر گورنر کو بول چکا ہے کہ 9 اور 13 تاریخ کے درمیان ہو جانے چاہئیں تو ان کی پوزیشن تو بالکل واضح ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہی الیکشن کمیشن 33اراکین قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کا اعلان پہلے ہی کر چکا ہے اور اگلے چند دن کے اندر 23 سے زائد اراکین قومی اسمبلی کے الیکشن کا اعلان بھی کردے گا تو الیکشن کمیشن سمجھتا ہے کہ ملک کے موجودہ حالات میں ایسی کوئی وجہ نہیں کہ بڑے پیمانے پر پورے ملک میں الیکشن نہ کرایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ویسے ا?ئین اس حوالے سے واضح ہے اور اس کا حالات سے بالکل کوئی بھی تعلق نہیں ہے، یہ ایک آئینی بندش ہے کہ 90دن کے اندر الیکشن کرانا ہے، گورن اور الیکشن کمیشن مانتے ہیں کہ 90دن کے اندر الیکشن ہونا ہے لیکن وہ تاریخ دینے کا تیار نہیں ہیں۔تحریک انصاف کے سینئر رہنما نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن اور گورنر تاریخ کا اعلان نہیں کرتے تو عدالت یہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ پھر صدر پاکستان تاریخ کا اعلان کریں گے، الیکشن ایکٹ اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ صدر پاکستان تاریخ کا اعلان کریں گے اور کسی کے دماغ میں شک نہیں ہونا چاہیے کہ یہ الیکشن 90 دن کے اندر نہیں ہونے والا۔
Load/Hide Comments



