اسلام آباد (آن لائن)وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نگران حکومتوں کی مدت میں توسیع کا انحصار حالات پر ہے، آئین میں نگران حکومتوں کی مدت میں توسیع کی گنجائش موجود ہے، تمام فیصلے الیکشن کمیشن نے کرنے ہیں وہ آئین اور ایکٹ کو سامنے رکھتے ہوئے الیکشن کی تاریخ دے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،خدانخواستہ اگر امن و امان کی صورتحال یا معاشی صورتحال ایسی بنے تو آئین میں ایسا انتظام موجود ہے،آئین میں ایسی شقیں موجود ہیں کہ آئین میں رہتے ہوئے نگران حکومتوں کے وقت میں کمی پیشی کی جاسکتی ہے،انتخابات کے انعقاد کے لیے آئینی وقت نوے روز ہے لیکن 1988 میں سیلاب کے باعث انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے، بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث الیکشن کمیشن نے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے انتخابات کی تاریخ تبدیل کی گئی تھی، وفاقی وزیرقانون کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آئین کے اندر رہتے ہوئے ممکنہ طور پر انتخابی اخراجات اور مردم شماری کا معاملہ دیکھے گا، تمام فیصلے الیکشن کمیشن نے کرنے ہیں وہ آئین اور الیکشن ایکٹ کو سامنے رکھتے ہوئے انتخابات کی تاریخ دے گا،انتخابات کون سی مردم شماری کے تحت ہوں گے ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہے، عبوری مردم شماری پر انتخابات کرانے کے لیے پچھلی مرتبہ آئین کے آرٹیکل 51 میں ایک آئینی ترمیم کی گئی تھی، نئی مردم شماری کا اعلان ہوچکا ہے،الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ان کی مشاورت سے بنا،انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر عمران خان کے نامزد شدہ ہیں، اگر الیکشن کمیشن سے میرٹ پر تحریک انصاف کے حق میں نہیں آرہے تو کس کا قصور نہیں ہے، نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کی تقرری پانچ صفر کے ساتھ ہوئی ہے، الیکشن کمیشن نے متفقہ طور ہر محسن نقوی کو نگران وزیراعلی پنجاب بنایا،نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کی تقرری آئین کے تحت ہوئی، اگر وہ سمجھتے ہیں کہ نگران وزیراعلی پنجاب ان سے ڈکٹیشن لے کر صوبہ چلائے گے تو آئین و قانون کی منشاء نہیں،انہوں ن ے کہا کہ فواد چوہدری کے خلاف مقدمہ سیکرٹری الیکشن کمیشن کی درخواست پر ہوا،عدالتیں آزاد ہیں وہ اس معاملہ پر فیصلہ کریں گی.
Load/Hide Comments



