پارلیمنٹ کا کام قانون سازی، جوڈیشری کا کام اس کی تشریح کرنا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد(آن لائن) چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کی عدالت نے طیبہ گل ہراسگی کیس میں ڈی جی نیب کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں طلبی کے خلاف درخواست پر سماعت کی دوران سماعت عدالت نے کہا کہ کوئی ادارہ دوسرے کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتاکیا کل کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نورقتل کیس میں ظاہر جعفر کو بلا کر پوچھ سکتی ہے کہ تم نے مارا تھا یا نہیں؟پارلیمنٹ کا کام قانون سازی اور جوڈیشری کا کام اس کی تشریح کرنا ہے ایگزیکٹو جوڈیشری اور جوڈیشری ایگزیکٹوز کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتی چیف جسٹس بننے کے بعد پتہ چلا کہ بے تحاشا چٹھیاں آتی ہیں سکھر سے درخواست آتی کہ میٹر اتار کر لے گئے ہیں، نوابشاہ سے درخواست آتی ہے کہ بچے کو لے گئے ہیں اگر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو کوئی چٹھی آ بھی گئی تھی تو انہیں وہ متعلقہ فورم کو بھجوانی چاہئے تھی مالی بے قاعدگیوں پر بھی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی خود سزا نہیں دے سکتی بلکہ معاملہ انکوائری کے لیے بھجوائے گی ہم نے دیکھنا ہے کہ اس نوعیت کا معاملہ دیکھنا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے دائرہ اختیار میں ہے یا نہیں؟پٹیشنرز نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا دائرہ مالی معاملات تک محدود ہے اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دوگل نے عدالت کو بتایا کہ میرا خیال ہے کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کو واپس بھجوایا جا سکتا ہے جس پر عدالت نے کہا کہ کیا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کل کو قتل کیس کی انکوائری بھی کرے گی؟ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے ملازمین کو پی اے سی نے بحال کیا تھاسابق چیف جسٹس نے فیصلہ دیا کہ یہ پی اے سی کا اختیار نہیں تھاپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے وکیل حافظ ایس اے رحمان عدالت میں پیش ہوئے جنھوں نے عدالت سے کہا کہ میرے دلائل بھی آج ہی سن لیں پتہ نہیں اگلی سماعت پر میں ہوں یا نہ ہوں جس پر عدالت نے کہا کہ آپ بزرگ اور ہمارے لیے محترم ہیں، ایسی بات نہ کریں موت کا وقت معین ہے کسی وقت بھی آ سکتی ہے بہتر ہے کہ کام کرتے ہوئے آئیں، کیس کی مزید سماعت 24 فروری تک ملتوی کر دی گئی.