ہم الیکشن میں جائیں گے اور بھرپور طریقے سے الیکشن میں حصہ لیں گے،رانا ثناء اللہ

لاہور(آن لائن)وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ماڈل ٹاؤن میں پارٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس میں پنجاب اسمبلی توڑنے کے پنجاب میں 12اپریل کو الیکشن کرانے کا فیصلہ کرلیا گیا،پارٹی رہنماؤں کو پنجاب میں اپنے حلقوں میں انتخابی مہم چلانے کی ہدایت کردی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ماڈل ٹاؤن میں پارٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، وزیردفاع خواجہ آصف، مریم اورنگزیب، خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔اجلاس کی اندرونی کہانی کے مطابق اجلاس میں پنجاب اسمبلی توڑنے کے بعد 12اپریل کو پنجاب میں الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے فیصلے سے پارٹی رہنماؤں کو آگاہ کردیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نوازشریف، مریم نواز، حمزہ شہباز اسی ماہ واپس آئیں گے۔اسی طرح وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ایڈوائس گورنر کموصول ہوگئی ہے اور کل ساڑھے دس بجے سے پہلے گورنر دستخط کردیں گے یا پھر خود بخود تحلیل ہوجائے گی۔آئینی معاملہ ہے اب پنجاب اسمبلی تحلیل ہوچکی ہے،ہم الیکشن میں جائیں گے اور بھرپور طریقے سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ کل بھی پرویزالٰہی نے عدم اعتماد کی تحریک کیلئے زور لگایا کہ اسمبلی نہیں ٹوٹنی چاہیے، ہم نے کہا آپ نے پیسا بہت کما لیا ہے، اب آپ جائیں۔ ہمارے دعوؤں کے کوئی برعکس کام نہیں ہوا، ان کے 12لوگوں نے ہمارے ارکان کے ساتھ رابطہ کیا کہ یہ پاگل آدمی اسمبلی توڑ رہا ہے، جبکہ ہم اسمبلی توڑنے کے حق میں نہیں ہیں، اورانہوں نے کہا کہ آپ گورنر کو کہیں کہ وہ اعتماد کا ووٹ لیں، ان کو دس بارہ دن لگے کہ ان کو منانے میں، جب رات 12بجے ایک بندہ آیا تو ان کے 186ارکان پورے ہوئے۔اس میں اسٹیبلشمنٹ نے ان کی کوئی سپورٹ نہیں کی، ایک ایک کرکے بندوں کو لائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے چودھری پرویزالٰہی بھی اسمبلی توڑنے کے حق میں نہیں تھا، پھر جب پرویزالٰہی کو آئندہ وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی تو اس نے اسمبلی توڑ دی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم الیکشن میں جائیں گے اور فتنے فساد کی سیاست کو دفن کردیں گے،ہماری خواہش بھی ہے اور پارٹی نے اپیل بھی کی ہے کہ نوازشریف واپس آکر الیکشن میں پارٹی کی قیادت کریں گے، ہمیں امید ہے کہ وہ پارٹی کی اپیل کو قبول کریں گے، اور وہ خود بھی وطن واپس آنا چاہتے ہیں.