لاہور (آن لائن) لاہور کی احتساب عدالت نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کیخلاف پیراگون ریفرنس اور بریت کی درخواستوں پر سماعت 23 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر گواہان کو طلب کر لیا۔ا حتساب عدالت کے جج قمر الزمان نے کیس کی سماعت کی۔ منگل کے روز سماعت پر وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق ایم پی اے عدالت میں پیش ہوئے اور اپنی حاضری لگائی۔ عدالت میں نیب تفتشی افسر نے شریک ملزم کی بریت کی درخواست پر جواب کے لیے مہلت مانگ لی۔ عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہان کو بھی طلب کر لیا۔ احتساب عدالت کے روبرو پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی ریفرنس میں خواجہ برادران کے خلاف مجموعی طور پر 130 گواہان بیان قلمبند کروائیں گے۔ اس کیس میں سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق، خواجہ سلمان رفیق کی ضمانتیں لیں۔ پیراگون اسکینڈل کیس میں نیب کی جانب سے خواجہ سعد رفیق، خواجہ سلمان رفیق سمیت پانچ ملزمان کے خلاف اکتیس مئی دو ہزار انیس کو ریفرنس دائر کیا گیا خواجہ برادرن کے خلاف پیراگون ریفرنس میں فرد جرم عائد کی جا چکی۔ نیب کے مطابق خواجہ سعد رفیق نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی کی تشہیر کی۔ ملزمان کے نام پیراگون میں 40 کنال اراضی موجود ہے۔ عدالتی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پاکستان ریلوے کو لائف لائن قرار دیا ہے اس پر ہم سپریم کورٹ میں اپنا مناسب جواب جمع کروائیں گے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہمارے پاس ریلوے کی جگہ موجود ہے اس کو مناسب استعمال کرنے کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں ہم اپنے اخراجات نکل سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ ریلوے کو ریاستی اداروں اور عدلیہ کا ساتھ مل جائے تو ہم کامیاب ہونگے، ہم تمام کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وہ وفاق اکیلا ملکر ملک میں عدم استحکام نہیں لا سکتا صوبائی حکومتوں کو چاہیے ملک میں ملکر استحکام لانے میں مدد کرے۔
Load/Hide Comments



