اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے یونین کونسل کی تعداد بڑھانے سے متعلق ٹھوس وجوہات مانگ لیں،عدالت نے مزید سماعت 19 جنوری تک ملتوی کر دی۔اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس رفعت ثمن پر مشتمل ڈویژن عدالت نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق انٹراکورٹ اپیلیوں پر سماعت کی،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سنگل بنچ نے الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا لیکن الیکشنز توہوئے نہیں اب کیا ہو گاالیکشن نہیں ہو سکا تو اس وقت الیکشن کا شیڈول موجود نہیں ہے ڈی جی لاء الیکشن کمیشن اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے عدالت نے کہا کہ ووٹرز لسٹوں سے متعلق معاملے کو دیکھا ہی نہیں ہے،انٹراکورٹ اپیل میں عدالت ووٹر لسٹوں کو تو نہیں دیکھ سکتی ووٹرز لسٹوں کو درست کرانے کا کیا طریقہ کار ہے؟ اس موقع پر ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کا ووٹر لسٹوں کا معاملہ بھیجا ہے،ووٹر لسٹیں درست کرانا ہائیکورٹ کا کام تو نہیں ہے عدالت نے یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے سے متعلق کابینہ کی میٹنگ کے منٹس اور سمری طلب کر لی،اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ میری درخواست پر کیا گیامیری درخواست پر فیصلہ کیا گیا مگر مجھے نوٹس ہی نہیں کیا گیا،اس موقع پر عدالت نے کہا کہ اگر آپ ہی کی درخواست پر فیصلہ کیا گیا تو آپ کو نوٹس کرنا چاہیے تھا پارلیمنٹ کا احترام ہے لیکن ابھی بلدیاتی ایکٹ بنا نہیں ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بارہ جنوری کیلئے مشترکہ اجلاس کی ریکوزیشن گئی ہے جس پر عدالت نے کہا آپ نے پھراخبار پڑھا نہیں ہے،صبح چائے یا کافی کے ساتھ اخبار پڑھ لینا ٹھیک رہتا ہے، صدر مملکت نے مشترکہ اجلاس کی ریکوزیشن مسترد کر دی ہے اسلام آباد صرف ایک شہر نہیں دارالحکومت کے باعث وفاق کی علامت ہے،چیف کمشنر کو ہی چیئرمین سی ڈی اے کا اضافی چارج کیوں دیا جاتا ہے؟ کیا افراد کی کمی ہے؟ یہاں کے مسائل کا حل کسی بھی حکومت کی ترجیح نہیں ہے مسئلے کا حل وہی ہے کہ اسلام آباد کی اپنی چھوٹی سی پارلیمنٹ ہوسڑکیں گلیاں بنانا ارکان پارلیمنٹ نہیں بلکہ لوکل گورنمنٹ کا کام ہے جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس میں تو کوئی دوسری رائے نہیں کہ یہ کام لوکل گورنمنٹ ہے ہیں اور انہوں نے ہی کرنے ہیں جس پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جب لوکل گورنمنٹ تھی تو میئر کو کام نہیں کرنے دیا گیا جس پر عدالت نے کہا کہ اس بات کو بھی دیکھیں کہ جب بھی مقامی حکومت آئے گی تو کیا وہ موثر کام کر سکے گی؟ عدالت نے الیکشن کمیشن نمائندہ سے استفسار کیا کہ اگر آج آپ کو کہا جائے کہ الیکشن کرائیں تو آپ کو کتنا عرصہ درکار ہو گا؟ جس پر ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ اگر 101 یونین کونسلز پر الیکشن کرانا ہو تو ہمیں سات سے دس دنوں کا وقت درکار ہے جس پر عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت آئندہ سماعت پر یونین کونسل کی تعداد میں اضافے کی ٹھوس وجوہات مہانگ لیں اورانٹراکورٹ اپیلوں پرمزید سماعت 19 جنوری تک ملتوی کر دی۔
Load/Hide Comments



