پبلک اکاونٹس کمیٹی حکومت پاکستان کی ملکیت بیرون ممالک میں جائیدادوں کو فروخت نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے پررپورٹ طلب

اسلام آباد(آن لائن) پبلک اکاونٹس کمیٹی حکومت پاکستان کی ملکیت بیرون ممالک میں جائیدادوں کو فروخت نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے پررپورٹ طلب کر لی ہے،کمیٹی نے صحت کارڈ کی آڑ میں ہونے والی کرپشن اور اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلا ت بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے کمیٹی کا اجلاس چیرمین نور عالم خان کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہا?س میں منعقد ہوااجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ سیکرٹری تجارت سمیت آڈیٹر جنرل اور دیگر حکام نے شرکت کی اجلاس میں کامرس ڈویژن کے2019-20 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا اجلاس کے دوران وزارتوزیر تجارت اور سیکرٹری نے 7 فون کنکشن اپنے دفاتر میں لگائے ہیں انہوں نے کہاکہ 2015 سے 2018 تک سات کنکشن لگائے گئے کمیٹی کے رکن برجیس طاہر نے کہاکہ سات کنکشن منسٹر آفس اور پانچ کنکشن سیکرٹری نے لگائے انہوں نے کہاکہ وضاحت کریں کہ یہ کنکشن کہاں کہاں لگائے گئے ہیں جس پر سیکرٹری تجارت نے بتایا کہ گرین لائن ہرجگہ لگ سکتی ہے اوراس میں تین تو گرین لائن ہیں انہوں نے بتایا کہ پی ایس، ڈائریکٹر ٹو وفاقی وزیر اور وفاقی وزیر کا نمبر لگا ہوتا ہے انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر کے آفس میں تین فون لگے ہیں،ڈائریکٹر ٹو منسٹر اور پی ایس کا الگ نمبر ہے اس موقع پر چیرمین پی اے سی نے استفسار کیا کہ اسوقت وفاقی وزیر کے کتنے نمبر ہیں جس پر آڈٹ حکام نے بتایا کہ اسوقت سات کنکشن لگے ہیں چیرمین پی اے سی نے کہاکہ ٹیلی فون بلز کی مد میں 7 لاکھ 56 ہزار سیکرٹری کامرس کے ذمے ہیں وہ بھی وصول کیا جائے جس پر سیکرٹری تجارت نے کہاکہ میرے گھر پر اسوقت دو لائنز ہیں آفس میں دو لائن آفیشل ہیں ایک لائن سٹاف کے پاس فیکس کی ہے جس پر آڈٹ حکام نے کہاکہ جتنی فون لائنز کی اجازت ہے اس سے زیادہ سیکرٹری تجارت کے آفس میں لگی ہیں اس موقع پر چیرمین پی اے سی نے کہاکہ میں نے تو کوئی اضافی فون نہیں لگایا ہے اورمجھے توصرف ایک ڈپلومیٹک پاسپورٹ ملا ہے اس موقع پر پی اے سی نے وفاقی وزراءاور سیکرٹریز کومجاز فون کنکشن کی تفصیلات طلب کر لی اجلاس کے دوران چیرمین پی اے سی نے سیکرٹری تجارت سے استفسار کیا کہ مجھے تھائی لینڈ سے کہا گیا کہ ایف ٹی اے پر وزارت تجارت نے جواب نہیں دیا انہوں نے سیکرٹری تجارت سے کہا کہ کمرشل اتاشیوں سے پوچھیں کہ انکی کارکردگی کیا ہے جس پر سیکرٹری تجارت نے کہاکہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت چل رہی ہے پی اے سی اجلاس میں کابینہ ڈویڑن کے حکام نے بھی شرکت کی اس موقع پر حکومت پاکستان کی بیرون ممالک پراپرٹیز کو بیچنے کے معاملے پر چیرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہاکہ حکومت پاکستان کی کوئی پراپرٹی نہ بیچی جائے اجلاس کے دوران چیرمین کمیٹی نے کہاکہ ہیلتھ کارڈزکی مد میں اربوں روپے کا فراڈ ہورہا ہے اورہیلتھ کارڈ کے ڈرامے کے بعد ایک ہسپتال نے تین تین ہسپتال بنانے شروع کردئیے ہیں انہوں نے کہاکہ ہیلتھ کارڈ کے نظام کے باعث سٹیٹ لائف انشورنس بیٹھ جائے گا چیرمین کمیٹی نے سٹیٹ لائف کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے فیکٹ شیٹ فراہم کرنے کہ بھی ہدایت کی۔