لاہور (آن لائن) وزیر مملکت برائے تخیف غربت و سماجی بہبود فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ٹیکنو کریٹ حکومت کے حوالے سے خان صاحب روزانہ نیا خواب دیکھتے ہیں۔ پارلیمنٹ آئین اور اپنے قواعد کے مطابق چلے گا آپکی خواہش پر نہیں، کبھی وہ کہتے ہیں مارچ اپریل میں الیکشن دکھائی دیتے ہیں کبھی کہتے ہیں نظر نہیں آ رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پیپلز پارٹی سنٹرل سیکرٹریٹ میں نایاب جان، میاں ایوب، الطاف قریشی،احسن رضوی اور احمد جواد فاروق رانا کیسا تھ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر خالد جاوید جان،بیرسٹر عامر،ذیشان شامی،ڈاکٹر شائستہ جان،چودھری سجاد نذیر اور رانا خالد بھی موجود تھے۔ فیصل کنڈی نے عمران خان کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیں پارلیمنٹ میں ملکر نیب اور الیکشن اصلاحات کریں، آپ نے سیاسی قیادت کو جیل میں ڈالا،ہم نیب کے سیاسی استعمال کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے استعفے دینے ہیں تو دیں، پیپلز پارٹی اور اسکے کارکن ہر وقت الیکشن کیلئے تیار ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ استعفے منظور کرنیکا ایک طریقہ کار ہے۔ افسوس ہے پہلے گجرات کا ایس ایچ او، پھر پرویز الٰہی اور اب محمود خان خان صاحب کا کہنا نہیں مانتے۔ یہ سنجیدہ ہیں تو آئیں کے پی اسمبلی توڑیں۔ پنجاب میں انکی حکومت کے چار برس مکمل ہو چکے ہیں مگر فوگ سے یہاں کا ماحول آلودہ ہے۔ فیصل کنڈی کا کہنا تھا کہ آج شاہ۔محمود،فوا د اور اسد عمر چودھریوں کے دربار میں منتیں کر رہے ہیں۔ہم عدم اعتماد لائے تو ہیں اگر پنجاب میں انکے نمبرز پورے ہوتے تو اعتماد کا ووٹ لیتے۔ میڈیا کے سوالوں کے جواب میں فیصل کنڈی کا کہنا تھا کہ خواہشات پر کوئی پابندی نہیں، اگر دس سیٹوں والا وزیراعلیٰ بن سکتا ہے تو 7 سیٹوں والا کیوں نہیں تاہم میرٹ پر ن لیگ کا حق بنتا ہے۔ فیصل کنڈی نے کہا کہ پاکستانی معیشت بہت مشکل ٹاسک ہے جسے ٹھیک کر رہے ہیں، ہم نے ورثے میں ملنے والی خراب معیشت کو ٹھیک کرنا ہے۔ 2008 اور آج کے کے پی میں امن و امان کی صورتحال میں بہت فرق ہے۔9 برس کے بعد صوبہ کے پی کی حالت خراب ہو چکی ہے۔ صوبہ کے پی کا وزیراعلیٰ ناقص امن کے باعث اپنے گھر نہیں جا سکتا کیونکہ خیبر پختونخواہ کی آدھی سے زیادہ پولیس پی ٹی آئی والوں کیساتھ پھر رہی ہے۔ وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ یہ کبھی بھی پنجاب یا کے پی اسمبلی نہیں توڑیں گے۔ خان صاحب نے لوگوں کی بڑی پگڑیاں اچھالی ہیں، چیلنج کرتا ہوں خان صاحب اکثریت ثابت کر کے دکھائیں۔ پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ صوبہ خیبر پی کے میں گورنر راج آ جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی شرم کے باعث وفاقی حکومت کو نہیں بتا سکتا کہ میں گھر نہیں جا سکتا۔ ایک اور سوال کے جواب میں فیصل کنڈی نے کہا کہ پرویز الٰہی نے اعتماد کا ووٹ لینا ہے۔نہیں لیتے تو پھر ہم عدم اعتماد لائینگے۔ سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں، پرویز الٰہی نے رات کو ہمارے ساتھ دعائے خیر کی صبح ان سے جا ملے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس فرشتے، جادو ٹونے اور تعویذ نہیں۔ شاہ محمود نے پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران سپیکر کھول کر استعفے دینے کا کہا تھا۔ اپنے چینل پر چاروں وزرائے اعلیٰ کو بلائیں جتنا کام وزیراعلیٰ سندھ نے متاثرین سیلاب کے حوالے سے کیا ہے کسی اور نے نہیں کیا جبکہ انکے دور میں ریکارڈ جھوٹ چل رہا تھا۔ بلاول بھٹو امریکہ جا کر امینوٹی حاصل نہیں کرتے۔
Load/Hide Comments



