اسمبلیاں تحلیل کرنے کے معاملے پر پارٹی میں اختلاف رائے موجود ہے،اسدعمر کا اعتراف

اسلام آباد(آن لائن) سابق وفاقی وز یر و پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر کا کہنا ہے کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کے معاملے پر پارٹی میں اختلاف رائے موجود ہے، کچھ لوگ اسمبلیاں فوری تحلیل کرنے کے حق میں ہیں اور کچھ کہتے ہیں کہ ابھی اسمبلیاں تحلیل نہیں کرنی چاہئیے،اسد عمر نے کہا کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ دو سے تین مہینے کا وقت ملنا چاہئیے۔ اسد عمرنے کہا ہے کہ اسمبلیاں تحلیل کر کے ہم کوئی سیاسی غلطی نہیں کر رہے، اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اعلان پر حکومت ڈگمگا گئی۔انہوں نے توہین عدالت نوٹس پرہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں حاضری اور عدالت سے غیر مشروط معافی کے بعد احاطہ عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے عدلیہ کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں کی کہ کسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے حکومت نے روس سے تیل درآمد کرنے میں دیر کردی ہے نالائق حکومت نے 8 ماہ ضائع کئے ہیں۔اسمبلیاں تحلیل کرنے کے حوالے سے زمان پارک میں اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا اورعمران خان حتمی فیصلے کے بعد اعلان کریں گے۔اانہوں نے کہا کہ ہم اسمبلیاں توڑ کر میدان خالی نہیں بلکہ خود اتر رہے ہیں، اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اعلان پر حکومت ڈگمگا گئی ہے۔راناثناء اللہ کہتا ہے ہر صورت میں اسمبلیاں بچانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی ا?ئی ایک عوامی جماعت ہے اور انہی میں جارہی ہے اسمبلیاں تحلیل کر کے ہم کوئی سیاسی غلطی نہیں کر رہے۔جبکہ پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں 20 مارچ سے پہلے عام انتخابات کا عمل مکمل ہوگا۔ اگر پی ڈی ایم 20 دسمبر تک ملک بھر میں عام انتخابات کا کوئی حتمی فارمولا سامنے نہیں لاتی تو پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی۔