وزیر اعظم پاکستان کیخلاف استعمال کی گئی زبان کی مذمت کرتے ہیں، راجہ فاروق حیدر خان

اسلام آباد (آن لائن)سابق وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی اس کی مذمت کرتے ہیں،وزیراعظم آزادکشمیر کی پریس کانفرنس و احتجاجی مظاہروں کی کال سے سیز فائر لائن کے پار منفی پیغام گیا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ عمران خان نے آزادکشمیر کے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کیا،پانچ اگست کا واقعہ عمران خان اور مودی کی رضامندی سے ہوا،کشمیر پر عمران خان نے بدترین پسپائی اختیار کی،وزیراعظم آزادکشمیر کو بلایا نہیں گیا تھا تو جانا ہی نہیں چاہیے تھا،کوئی آدمی بھی ہوتا یہ طریقہ کار مناسب نہیں کہ کھڑے ہوکر بات شروع کردیں،تقریب میں امریکی سفیر سمیت اہم شخصیات موجود تھیں وزیراعظم آزادکشمیر کو الگ وقت لیکر بات کرنی چاہیے تھی،وزیراعظم آزادکشمیر چیف ایگزیکٹو ہیں ذمہ دار ہیں جو گفتگو انہوں نے کی وہ انتہائی عامیانہ اور قابل مذمت ہے،وزیراعظم سینٹوریس کے چیف ایگزیکٹو نہیں ہیں وہ ریاست کے چیف ایگزیکٹو ہیں،انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے وزارت عظمی کے عہدے کی بھی تضحیک ہوئی اور اپنی بھی انہوں نے کروائی،واپڈا سے ہمیں بھی تحفظات ہیں لیکن بات کرنے کا طریقہ کار انتہائی غیر مناسب تھا،میرا بھی شدید اختلاف رہا عمران خان کے ساتھ مگر اس طرح کی گفتگو کبھی نہیں کی،عمران خان سے داد لینے کے لیے یہ بات نہیں ہونی چاہیے تھی،واپڈا کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ آزادکشمیر کی سرزمین میں ہے،تنویر الیاس سیاسی کارکن نہیں ان کے خلاف عدم اعتماد دنوں کا کام ہے،سینٹوریس مال کو سی ڈی اے نے سیل کیا اس کا وزیراعظم پاکستان سے کوئی تعلق نہیں،وزیراعظم آزادکشمیر غیر تربیت یافتہ شخص ہیں انہیں معاملات کا علم ہی نہیں،پیسے کے زور پر سیاست کرنے کا رحجان انتہائی خطرناک ہے،ایک سال ہوگیا ہے کتنی بار انہوں نے میرپور کے حقوق کی آواز اٹھائی.