لاہور (آن لائن) وفاقی وزیر ریلویز و ہوا بازی خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد اور سابق آرمی چیف کو پارلیمنٹ میں دی جانے والی توسیع کی قانون سازی پر کوئی پشیمانی نہیں،ہمیں جیل سے باہر بلا کر فارورڈ بلاک بنانے اور وزارت اعلی کی پیشکش کی گئی مگر ہم ڈٹے رہے،ہم آئین کے تحت تحریک عدم اعتماد لے کر آئے،عمران خان ایک دن کہتے ہیں بات کروں گا اور اگلے دن کہتے ہیں مذاق کیا تھا، پتہ نہیں وہ کب سنجیدہ ہوتے ہیں،ایک دوسرے کے گریبان پھاڑ کر ملک نہیں چلتا، حکومت سے باہر تباہی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان ریلوے کو چین سے 230 ہائی سپیڈ جدید مکمل طور پر تعمیر شدہ یونٹ کوچز میں سے 46 کی پہلی کھیپ موصول ہوئی ہے، ان کوچز کے حصول کے بعد پاکستان ریلوے اسلام آباد میں اپنی کیرج فیکٹری میں اسی طرح کی 184 بوگیاں تیار کرنا شروع کر دے گا،پچھلے چار سال میں ایک بھی لوکو موٹیوز یا کوچ نہیں خریدی گئی اورایم ایل ون منصوبے پر بھی کوئی کام نہیں ہوا، پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے اداروں کو چلانا مشکل ہوگیا ہے،ریلوے کو خسارے سے نکالنے کیلئے ادارے کی زمینوں کو استعمال میں لانا ہو گا۔ریلوے کے اگلے 10سال کا روڈ میپ دے کر جائیں گے، اس ادارے کے ساتھ 10لاکھ لوگوں کاروزگاروابستہ ہے، بھارت اور بنگلادیش میں ریلوے ترقی کر رہا ہے، ہمیں کہتے ملک نہیں چلا سکے یہ تو ایک ادارہ نہیں چلا سکے،پی ٹی آئی کے 4سالہ دور میں ریلوے کا برا حال ہوگیا، ہم نے اپنے دور میں 11ریلوے اسٹیشنز بنائے، عمران خان ایک ہی کا اضافہ کردیتے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم ریلوے لینڈ کو ڈیجیٹلائزڈ کر کے گئے تھے، سپریم کورٹ نے 5سال سے زائد ریلوے زمین لیز پر پابندی لگا دی، ایم ایل ون کی بڑی باتیں چھوڑنے والے ریلوے کو تباہ کر کے گئے۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جب ہم حکومت میں نہیں تھے تو تباہی کا اندازہ نہیں تھا اب اندازہ ہو گیا کہ تباہی کہاں تک پہنچ چکی ہے آج بھی حالات بہت مشکل ہیں۔مگر ہم حکومت سے بھاگے نہیں بلکہ ڈیفالٹ سے ملک بچا لیا۔اانہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے پاکستان ریلوے میں بہتری اور استعداد کار بڑھانے کے لیے اقدامات نہیں کیے تھے، پاکستان ریلوے میں گزشتہ دور حکومت میں ایک بھی لوکوموٹیو شامل نہیں کیا گیا،کوچز کی خریداری میں تاخیر کی وجہ سے اخراجات زیادہ آئے،اپنے سابقہ دور میں ہم نے گیارہ نئے ریلوے سٹیشن بنائے تھے جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں ایک نیا سٹیشن بھی نہیں بن سکا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آئندہ کوچز کی تیاری پاکستان میں ہی ہو گی،بدقسمتی سے ہمارے ہاں پالسیوں کا تسلسل نہیں ہے جس کی وجہ سے اداروں کو چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹرینوں میں انٹرنیٹ وائی فائی کا کام مکمل ہو چکا، پچھلے چار سال میں ایک بھی لوکو موٹیوز یا کوچ نہیں خریدی گئی،لوکو موٹیوز کیلئے دوسرے ملکوں میں انحصار کرنا پڑ رہا ہے،کیریج فیکٹری کو بھی اپ گریڈ کر رہے ہیں،آپٹیک بائبر بچھانے والے ہمیں کرایہ دینے کی بجائے ریونیو شیئرنگ کریں۔انہوں نے کہا کہ ریلوے کو شنٹنگ لوکو موٹیوز بھی درکار ہیں، گزشتہ چار سال میں ایم ایل ون منصوبے پر بھی کوئی کام نہیں ہوا، اب ہمیں دوبارہ صفر سے کام شروع کرنا پڑ رہا ہے، ریلوے کو خسارے سے نکالنے کیلئے ادارے کی زمینوں کا استعمال میں لانا ہو گا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گزشتہ سالوں میں ملازمین اور افسران کے ساتھ برا سلوک کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک دن کہتے ہیں بات کروں گا اور اگلے دن کہتے ہیں مذاق کیا تھا، پتا نہیں چلتا وہ کب مذاق کرتے ہیں اور کب سنجیدہ ہوتے ہیں۔سعدرفیق نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں سابق آرمی چیف کو ایکسٹینشن دیناغلطی تھی، اگر غلطی تھی تو دوبارہ توسیع دینے کی آفر کیوں کی، ریٹائرمنٹ تک توعمران خان خاموش تھے بلکہ جب تک دوآدمی ریٹائرنہیں ہوئے آپ کی زبان خاموش رہی، مونس الٰہی کیا کہتے ہیں میرا کوئی لینا دینا نہیں۔کیا ایک دوسرے کے گریبان پھاڑ کر ملک چلتا ہے، آئین کہتاہے کوئی اکثریت کھوبیٹھے تو اقلیت کوحکمرانی کا حق نہیں اور ہم آئین کے تحت عدم اعتماد لے کر آئے۔تحریک عدم اعتماد اور سابق آرمی چیف کو پارلیمنٹ میں دی جانے والی توسیع کی قانون سازی پر کوئی پشیمانی نہیں ہے.
Load/Hide Comments



