لاہور(آن لائن) وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ دھمکیاں اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں ہو سکتے،خان صاحب! اسمبلیاں توڑیں تو بے آسرا آپ ہوں گے ہم نہیں، وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان ہمارے تعاون کو این آر او کہتے رہے وہ کرسیاں پھلانگ کر جاتے تھے تاکہ اپوزیشن سے آنکھیں نہ ملا سکیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی 4 سالہ فرعونیت سب کو پتا ہے جبکہ یہ لوگ خود نالائق اور کرپٹ بھی تھے تاہم اگر یہ سنجیدہ ہیں تو مذاکرات کا ماحول بھی بنانا پڑتا ہے کیونکہ دھمکیاں اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔ مذاکرات ان کی ضرورت ہیں ہماری نہیں۔ ہم چاہتے ہیں الیکشن اپنے وقت پر ہوں،وفاقی وزیر نے کہا کہ 2018 کا الیکشن عمران خان کو چوری کرکے دیا گیاتھا، پونے چار برس عمران خان وفاق میں حکمراں رہے، آئینی جمہوری تبدیلی کے نتیجے میں عمران خان کا دور ختم ہواجس کے بعد عمران خان کی سازشیں ایک ایک کرکے ناکام بنائیں، اگر آپ مذاکرات چاہتے ہیں توفیصلہ پی ڈی ایم کریگی، ماضی میں بھی غیر رسمی رابطے ہوئے ہیں، مذاکرات کا عمل سیاست کاحصہ ہے۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عمران خان جان لیں اگر اسمبلیاں توڑیں تو بے آسرا آپ نے خود ہونا ہے اور اسمبلیاں توڑنے کا مطلب عوام کے مینڈیٹ کا مذاق اڑانا ہے۔ اگر آپ نے رابطہ کرنا ہے تو طریقہ کار کے ساتھ کریں۔ عمران خان نے دھمکی آمیز لہجے میں مذاکرات کی پیش کش کی۔انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 2 صوبائی حکومتوں کے خرچے پر آپ نے لانگ مارچ کیا۔ یہ لوگ مذاکرات کا خود کہتے ہیں اور بعد میں بتانے سے شرماتے ہیں جبکہ ن لیگ کی میثاق معیشت کا بھی مذاق بنایا گیا تھا۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ عمران خان مذاکرات کریں اور ہم ساری باتیں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں رکھیں گے جبکہ مذاکرات کے لیے کسی تیسرے کی مداخلت کی ضرورت بھی نہیں ہو گی۔ عمرانخان تو کھیلتے ہی امپائر کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان سنجیدہ ہیں تو 2، 3 باتیں سمجھ جائیں کہ وہ ہمیں مشروط مذاکرات کا کہہ کر کیا ثابت کر رہے ہیں اور دھمکی آمیز مشروط مذاکرتی پیشکش سے سنجیدگی ظاہر نہیں ہوتی۔ بعض اتحادی کہتے ہیں کہ ان کو فیس سیونگ نہیں دینی چاہیے۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سیاستدان کبھی مذاکرات سے انکاری نہیں ہوتے۔ یہ واحد سیاستدان ملک پر مسلط ہوا ہے جس نے پونے 4 سال اپوزیشن سے ہاتھ تک نہیں ملایا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کو دھمکی دے کر الیکشن کی تاریخ لینے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ یہ 25 مئی سے اسی کام پر لگے ہوئے ہیں۔رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان تیسری قوت سے تاریخ مانگتے رہے لیکن تاریخ نہیں ملی کیونکہ وہ غیر سیاسی ہوچکے ہیں۔ یہ عمران خان کی ناکامی ہے کہ وہ عوام کا سمندر نہیں لاسکے۔ ہمیں ایسے حالات ملے کے ملک ڈیفالٹ کے کنارے پرتھا۔ ہم نے ملک کو سنبھالا لیکن عوام کوریلیف دینے کی پوزیشن میں نہیں آسکے۔
Load/Hide Comments



