لاہور (آن لائن) اکتوبر کے مہینے میں پاکستان میں خوراک 36.2 فیصد مہنگی ہوئی جبکہ دنیا میں یہ مہنگائی دس فیصد رہی۔ وفاقی حکومت کی نااہلیوں کی وجہ سے 2023 میں دنیا میں تین فیصد جبکہ پاکستان میں غذائی اشیاء کی مہنگائی پچیس فیصد رہے گی۔ ڈیزل، کھادیں، ٹریکٹر کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں کی قوت خرید کم ہوئی ہے۔ رواں سال کسانوں کی آمدنی ایک ہزار ارب روپے کم ہوگی جبکہ تحریک انصاف کے دورمیں کسانوں کی امدنی میں 2600ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔ان خیالات کا اظہار رہنما تحریک انصاف جمشید اقبال چیمہ نے کسان رہنماؤں کے ہمراہ لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بار کسان بھی 26 نومبر کو لانگ مارچ میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف شریک ہوں گے۔ بجلی وڈیزل کی قیمت مرکز مقرر کرتاہے۔ وفاق گیس پر سبسڈی مہیا کرے گا تو کھاد کی پیداواری لاگت اور قیمت کم ہوگی۔ پاکستان میں ڈی اے پی 39 فیصد، ٹریکٹر36فیصد اور ڈیزل کے استعمال میں 20فیصد کمی ہوئی جبکہ کاٹن اور چاول 30فیصد، گنا 9 فیصد کم پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کسان دشمن پالیسیوں پر گامزن ہے۔ وزیر اعظم نے اٹھارہ سو ارب روپے کا کسان پیکج کااعلان کیا لیکن پندرہ روز میں پیکج میں کوئی رعایت نہیں دی گئی۔ وفاقی حکومت کسانوں سے پیکج پر واردات کررہی ہے۔ ساڑھے آٹھ روپے والا یونٹ پیکج میں بائیس روپے میں دیا ہے۔ ڈی اے پی کھاد کی قیمت محض بیس روپے کم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ڈیزل کو ہمیشہ سستا رکھا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں واحد حکومت ہے جس نے پیٹرول سے ڈیزل کو مہنگا کیا۔ جمشید اقبال نے کہا کہ شوگر ملیں یکم نومبر کو چلنی تھی جو ابھی تک نہیں چلیں۔ گنے کی پیداواری لاگت بڑھنے سے بیاسی روپے والی چینی کی قیمت ایک سو پندرہ ہو نے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی اشیاء دنیا میں سستی لیکن پاکستان میں بہت مہنگی ہوگئی ہیں خطرہ ہے خوراک سستی نہ کی تو تمام انڈسٹری بیٹھ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور میں ڈی اے پی کھاد پر پچیس فیصد صوبہ اور پچتھہر فیصد وفاق سبسڈی دیتا تھا جو وفاق نے ختم کر دی ہے۔ عمران خان کی حکومت میں کھانے پینے، تعلیم، دوکانوں، مکانوں کا کرایہ کے حوالے سے پاکستان دنیا میں سب سے سستا ملک تھا۔
Load/Hide Comments



