بلوچستان اسمبلی اجلاس، صوبے میں گیس اور بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کیلئے قائم مقام اسپیکر کی قیادتِ میں دس روکنی کمیٹی تشکیل

کوئٹہ(آن لائن)بلوچستان اسمبلی اجلاس میں صوبے میں گیس اور بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کیلئے قائم مقام اسپیکر سردار بسبر موسی خیل کی قیادتِ میں دس روکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جوفاقی وزرا سے ملاقات کرکے انھیں بلوچستان کے عوام کو درپیش مشکلات سے آگا ہ کرینگے مبین خلجی کی نشاندھی پر کورم کی گھٹیاں بجائی گئیں جس پر قائم مقام اسپیکر نے اجلاس 22نومبر سہپیر تین بجے تک ملتوی کردیا بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کو دو گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں چیئر مین مجلس قائمہ برائے محکمہ تعلیم،خواندگی و غیر رسمی تعلیم، اعلیٰ تعلیم، صدارتی پروگرام، سی اینڈ ڈبلیو اے، معیاری تعلیم، سائنس انفارمیشن ٹیکنالوجی قادر علی نائل نے بلوچستان کیڈٹٹ کالجز(ترمیمی) مسودہ قانون کی رپورٹ پیش کی جس کے بعد پارلیمانی سیکرٹری خلیل جارج نے وزیرتعلیم کی جانب سے بلوچستان کیڈٹ کالجز کا ترمیمی مسودہ قانون 2022ایوان میں پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔ اجلاس میں مجلس قائمہ برائے محکمہ صحت عامہ اور بہبود آباد ی کے چیئر مین میر عارف جان محمد حسنی نے بلوچستان ڈرگز (ترمیمی) مسودہ قانون سے متعلق رپورٹ ایوان میں پیش کی جس کے بعد پارلیمانی سیکرٹری خلیل جارج نے وزیر صحت کی جانب سے بلوچستان ڈرگز کا ترمیمی مسودہ قانونایوان میں پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری خلیل جارج نے وزیر خزانہ کی جانب آئین کے آرٹیکل 160کی شق 3(B)کے تحت سے سال 2021کی دوسری ششماہی (جنوری تاجون) تک کی قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے عمل درآمد سے متعلق رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری خلیل جارج نے بلوچستان اسمبلی کے قواعد انضباط کار مجریہ 1974کے قاعدہ 180کے تحت ایوان کی خصوصی مجلس تشکیل دینے کی تحریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائم مقام اسپیکر سردار بابرموسیٰ خیل کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے جو صوبے میں سوئی گیس اور بجلی کی عدم فراہمی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے وفاقی حکومت کے ساتھ معاملہ اٹھائے اور اسکا قابل قبول حل نکالے۔ کمیٹی کے چیئر مین سردار بابرموسیٰ خیل جبکہ ارکان میں جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ، بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی، پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر میر نصیب اللہ مری، عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی، بی این پی (عوامی) کے پارلیمانی لیڈر میر اسد اللہ بلوچ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالخالق ہزارہ، پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نصر اللہ زیرے، جمہوری وطن پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نوابزادہ گہرام بگٹی، بی اے پی کے نمائندگان سکندر عمرانی اور بشریٰ رند ہونگے۔ ایوان نے خصوصی کمیٹی کے قیام کی تحریک کو منظور کرلیا۔