اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے عمران خان کا لانگ مارچ روکنے کے خلاف سینیٹر کامران مرتضی کی درخواست غیر موثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دی ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 149 کے تحت وفاق کا صوبوں کو خط بہت سنجیدہ معاملہ ہوتا ہے،ملک میں ہنگامہ نہیں امن و امان چاہتے ہیں،ایسا حکم دینا نہیں چاہتے جو قبل از وقت ہو اور اس پر پھر عمل درآمد نا ہو،درخواست میں ماضی کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا ہے،لانگ مارچ سیاسی مسئلہ ہے جس کا سیاسی حل ہو سکتا ہے،اس قسم کے مسائل میں مداخلت سے عدالت کیلئے عجیب صورتحال پیدا ہو جاتی ہے،احتجاج کا حق لامحدود نہیں، آئینی حدود سے مشروط ہے، درخواست گزار مطابق ایگزیکٹیو کے اختیارات تو 27 کلومیٹر تک محدود ہیں،درخواست گزار مفروضے کی بنیاد پر ہمارے پاس آئے ہیں،ہو سکتا ہے گزشتہ کی خلاف ورزیوں پر دوسرے فریق کا اپنا موقف ہو،اگر واضح طور پر آئینی خلاف ورزی کا خطرہ ہو تو عدلیہ مداخلت کرے گی.عدالت عظمی نے اس موقع پر ایڈووکیٹ کامران مرتضی کی درخواست غیر موثر قرار دیتے ہوئے خارج قرار دے دی ہے۔ معاملہ کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت درخواست کامران مرتضیٰ نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ دو ہفتے سے عمران خان کا لانگ مارچ شروع ہے،فواد چوہدری کے مطابق جمعے یا ہفتے کو لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا،لانگ مارچ سے معاملات زندگی متاثر ہو سکتے ہیں،لانگ مارچ پی ٹی آئی کا حق ہے لیکن عام آدمی کے حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئے۔جسٹس عائشہ ملک نے اس موقع پر ریمارکس دیئے پی ٹی آئی کا لانگ مارچ تو کافی دنوں سے چل رہا ہے،کیا آپ نے انتظامیہ سے رجوع کیا ہے؟لانگ مارچ کے معاملے میں جلدی کیا ہے اور انتظامیہ کی غفلت کیا ہے؟کیاحکومت نے احتجاج کو ریگولیٹ کرنے کا کوئی طریقہ کار بنایا ہے؟انتظامیہ کو متحرک کریں کہ وہ اپنا کردار ادا کریں،آئے روز اسلام آباد میں پارلیمنٹ سمیت کئی جگہوں پر احتجاج ہوتے ہیں،کیا کبھی باقی احتجاجوں کے خلاف آپ عدالتوں میں گئے ہیں؟ایک مخصوص جماعت کے لانگ مارچ میں ہی عدالت کی مداخلت کیوں درکار ہے؟کیا وفاق کو نہیں معلوم کہ اپنی ذم داری کیسے پوری کرنیہے،سپریم کورٹ انتظامی معاملات میں کیا کر سکتی ہے؟
Load/Hide Comments



