امپورٹڈ حکمران خیبرپختونخوا کے حقوق ادا نہ کرکے صوبے میں بھی مالی عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں،محمود خان

پشاور(آن لائن)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت کے آنے سے مسائل میں اضافہ ہوا، ہر چیر مہنگی اور عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے، امپورٹڈ حکمران خیبرپختونخوا کے حقوق ادا نہ کرکے صوبے میں بھی مالی عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں تاکہ گورنر راج کا راستہ ہموار ہو سکے۔ عمران خان کے دور حکومت میں ملک ترقی کی جانب گامزن تھا، رات کے اندھیرے میں ہماری حکومت پر شب خون مارا گیا اور ایک منتخب عوامی حکومت کو گرا کر ملک پر ڈاکوؤں کو مسلط کیا گیا۔نا اہل امپورٹڈ حکمرانوں نے عمران خان کو راستے سے ہٹانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی مگر اللہ نے اُنہیں مذموم عزائم میں ناکامکیا۔ عمران خان ملک و قوم کی حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم سب نے عمران خان کی قیادت میں حقیقی آزادی مارچ کو کامیاب بنانے میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے اپر دیر چوک میں آزادی مارچ کے سلسلے میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے منگل کے روز ضلع اپر دیر کا ایک روزہ دورہ کیا جہاں انہوں نے میں 4.4 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کی گئی ایمر جنسی ریسکیو سروسز 1122 کی عمارت کا افتتاح کیا جو تین بلاکس، انڈر گراؤنڈ پارکنگ اور ملازمین کے لیے رہائشی کمپلیکس پر مشتمل ہے۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ نے کیڈٹ کالج کی عمارت سمیت گیارہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا جو مجموعی طور پر تقریباً 10.8 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کیے جائیں گے۔ 514 کنال وسیع رقبے پر محیط کیڈٹ کالج کا منصوبہ 3.6 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا جس میں 600 طلباء کے لیے تعلیم و تربیت کی استعداد موجود ہو گی جبکہ دیگر منصوبوں میں گرلز ڈگری کالج لرجم، گرلز ڈگری کالج واڑی اور ڈگری کالج نہاگ واڑی کا قیام، 44 کلو میٹر طویل پتراک تا تھل کمراک روڈ کی تعمیر، 10 کلو میٹر طویل ڈوگ درہ روڈ کے مسنگ لنک کی تعمیر، 7.5 کلومیٹر طویل پتراک تا گوالدائی سڑک کی تعمیر، 12 کلومیٹر طویل سیاسن روڈ کی تعمیر و بحالی، اوشیرئی درہ روڈ کی تعمیر و کشادگی، بابو عمرالی آر سی سی پل کی تعمیر اور واڑی بائی پاس کی تعمیر شامل ہیں۔