اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ نامناسب پالیسیاں ہیں، مسابقتی کمیشن

لاہور (آن لائن) مسابقتی کمیشن پاکستان نے 10 ضروری غذائی اشیا ء کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق اپنا جائزہ مکمل کرلیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قیمتیں بڑھنے کی وجہ نامناسب پالیسیاں اور ریگولیشن نظام ہے۔مسابقتی کمیشن پاکستان نے 10 ضروری غذائی اشیا ء کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق اپنی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جولائی 2021 کی نسبت جولائی 2022 میں 10 اشیا ء35 فیصد مہنگی ہوئیں، اس میں پیاز، خوردنی تیل، گھی، آلو، مرغی، گندم، چینی، دودھ، چاول، ٹماٹر اور دالیں شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دال مسور 92 فیصد، پیاز 89، خوردنی تیل 77 اور چنے 52 فیصد مہنگے ہوئے۔انتہائی ضروری غذائی اشیا ء کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ نامناسب پالیسیاں اور ریگولیشن نظام ہے۔ بنیادی غذائی اشیا ء ایک اوسط گھرانے کی ماہانہ خوراک کے اخراجات کا 63 فیصد ہیں۔سی سی پی نے درآمدات اور برآمدات پر پابندی کوتاجروں کے لئے عالمی مارکیٹ تک رسائی میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔سی سی پی نے کاشتکاروں کو ہر طرح کی فصلوں اور پیداوار کیلئے قرض تک رسائی بڑھانے کی سفارش بھی کی ہے۔ مسابقتی کمیشن پاکستان نے کہا ہے کہ نومبر 2021 سے ملک میں مہنگائی کی شرح ڈبل ڈیجیٹ میں ہے۔