اسلام آباد(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کی معاشی ٹیم نیگزشتہ 20 ماہ کے دوران ملکی معیشت کی ناقابلِ تصور تباہی پر وائیٹ پیپر جاری کر دیا۔ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق وائیٹ پیپر میں پی ڈی ایم کی نالائق اور نااہل حکومت کے معیشت کے ساتھ سنگین کھلواڑ کی تفصیلات اعداد و شمارکے ساتھ قوم کے سامنے رکھ دی گئیں۔وائیٹ پیپر میں تحریک انصاف حکومت کی 3.5 سال میں 17 سالہ بہترین معاشی کارکردگی کا بھی مفصل جائزہ پیش کیا گیا۔ ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ تحریک انصاف نے سال 2018 میں حکومت سنبھالی تو معیشت تاریخ کے بدترین بحران کی زد میں تھی،ن لیگ نے اپنے گزشتہ دور میں درآمدی ایندھن پر منحصر پاور پلانٹس کے ذریعے توانائی شعبے کو بدانتظامی سے دوچار کیا،تحریک انصاف کو ن لیگ حکومت کی نا اہلی کی بدولت 1.6 کھرب روپے کا گردشی قرضہ اور 1.4 کھرب تک کی سالانہ کیپیسیٹی پیمنٹس ورثے میں ملیں، ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ مالی سال 2018 میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ 19.2 ارب ڈالر اور ملکی زرِ مبادلہ ذخائر 9.4 ارب ڈالر کی سطح پر تھے، تحریک انصاف نے 2018 میں ایک ایسی معیشت سنبھالی جو تباہی کے دہانے پر اور بیرونی بحران کا شکار تھی، ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ پاکستان کو 2018 میں بیرونی قرض کی ادائیگی کیلئے 32 ارب ڈالر کی فوری فنڈنگ درکار تھی، وزیر اعظم عمران خان نے کرنٹ اکاونٹ خسارے کو کم کرنے اوربیرونی قرض کی ادائیگی کے لیے دوست ممالک سے غیر ملکی قرضوں کے حصول کی ہر ممکن کوشش کی۔ ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے کورونا وبا سے قابلِ ستائش طریقے سے نمٹنے پر ورلڈ بینک نے پاکستان کو کووڈ سے بہترین مقابلہ کرنے والے سرِفہرست تین ممالک میں شامل کیا،کووڈ کے باوجود عمران خان نے زراعت، تعمیرات اور صنعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو یقینی بنایا۔ ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ عمران خان نے کموڈٹی سپر سائیکل کے باعث عالمی سطح پر ہونے والی بلند ترین مہنگائی کے اثرات سے قوم کو محفوظ رکھتے ہوئے شرح مہنگائی کو 12.7 فیصد تک محدود رکھا۔ ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ پی ٹی آئی نے حکومت کے تیسرے اور چوتھے سال میں 6 فیصد شرح نمو حاصل کی، سال 2007 کے بعد پی ٹی آئی واحد حکومت ہے جس نے مسلسل 2 سال 6 فیصد کی رفتارسے ترقی کی،مالی سال 22 میں زرعی ترقی کی شرح 4.4 فیصد رہی جو کہ مالی سال 2005 کے بعد بلند ترین ہے۔ ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی شرح سال 2021 میں 11.5 فیصد اور سال 2022 میں 11.7 فیصد رہی جو کہ سال 2005 کے بعد بلند ترین شرح ہے،پی ٹی آئی کی 3.5 سالہ حکومت کے دوران اوسط شرح نمو 5.7 فیصد رہی جو ن لیگ کے گزشتہ دور میں 5.2 فیصد اور پیپلز پارٹی کے دور میں 3.6 فیصد تھی، ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ برآمدات 32 ارب ڈالر جبکہ ترسیلاتِ زر 31 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچیں، ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ کووڈ کے باجوود تحریک انصاف نے پہلے 3 سال کے دوران سالانہ 1.84 ملین کی شرح سے 5.5 ملین نوکریاں فراہم کیں جو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے گزشتہ ادوار کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے، تحریک انصاف حکومت کموڈٹی سپر سائیکل کے باوجود کرنٹ اکاونٹ خسارہ 2018 سے نیچے لے کر آئی اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ کیا،اپریل 2022میں رجیم سازش کے نتیجے میں پی ڈی ایم حکومت ملک پر قابض ہوئی اور 16 ماہ کے دوران اچھی بھلی چلتی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا، ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت کی ناقص پالیسیوں نے تمام کاروباری سرگرمیوں کو تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں معیشت تیزی سے تنزلی کا شکارہوئی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا،ریکارڈ مہنگائی نے عوام کی قوتِ خرید تقریبا ختم کر دی اور نتیجتا غربت کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت نے 6 فیصد کی شرح سے ترقی کرتی معیشت کو تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچاتے ہوئے منفی کر دیا، مئی 2023 میں سالانہ افراط زر کی شرح 70 سالہ تاریخ میں بلند ترین 38 فیصد ریکارڈ کی گئی اور خوراک کی افراط زر 50 فیصد تک پہنچ گئی۔ ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ بیروزگاری 75سالوں کی بلند ترین سطح 8.5 فیصد تک پہنچی، پی ڈی ایم کے 16 ماہ میں 2 ملین سے زائد افراد بیروزگار ہوئے اور 2 کروڑ خطِ غربت سے نیچے چلے گئے، ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ پاکستان کا کریڈٹ ڈیفالٹ سواپ مارچ 2022 میں 5 فیصد سے بڑھ کے 50 فیصد تک پہنچ گیا اور معیشت کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ مسلسل منڈلانے لگا، پی ٹی آئی کے دورمیں 31.3 ارب ڈالر کے مقابلے ترسیلات زر کم ہو کر 27 ارب ڈالر رہ گئیں اور برآمدات 31.7 ارب ڈالر کے مقابلے میں 27.7 ارب ڈالر تک گر گئیں۔ ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت میں پاکستانی روپیہ تقریبا 122درجے تک کی بدترین بیقدری کا شکار ہوا جو پی ٹی آئی کے 3.5 سالہ دور میں صرف 60 روپے کم ہوا،عالمی مالیاتی ادارے موڈیز، فچ اور ایس اینڈ پی نے پاکستانی معیشت کی کریڈٹ ریٹنگ کو منفی کر دیا.
Load/Hide Comments



