چیئرمین پی ٹی آئی کو کہا تھا پاک فوج سے بنا کر رکھنی چاہئے، شیخ رشید

اسلام آباد(آن لائن)پی ٹی آئی کے اتحادی سابق رکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد منظر عام پر آگئے۔شیخ رشید نے کہا کہچیئرمین پی ٹی آئی کو کہا تھا پاک فوج سے بنا کر رکھنی چاہئے، ہیں میری ایک سیٹ کی پارٹی ہے، خود کو پاک فوج کا ترجمان کہنے پر فخر ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی طرف سے فوج سے مذاکرات کرنیوالے تینوں آدمیوں نے اپنی جماعت بنالی، چیئرمین پی ٹی آئی نے 2 بار فوج سے مذاکرات سے منع کیا۔ شیخ رشید نے ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ میں 40 دن کیلئے چلے پر گیا تھا، خبریں تو لگتی رہتی ہیں، اللہ نے زندگی میں 40 دن لگانے کا موقع دیا، چلے کے دوران مجھے کسی نے نقصان نہیں پہنچایا، چلے کے دوران سب لوگوں نے میرے ساتھ تعاون کیا، 40 دن خوش اسلوبی سے گزر گئے۔انہوں نے کہا کہ میرا تعلق عوامی مسلم لیگ سے ہے، میری ایک سیٹ کی پارٹی ہے، پہلے دن سے اپنی افواج کے ساتھ ہوں، پاک فوج دنیا کی عظیم فوج ہے، مجھے خود کو پاک فوج کا ترجمان کہنے پر فخر ہے، چیئرمین پی ٹی ا?ئی کو ہمیشہ کہا فوج سے بناکر رکھنی چاہئے۔شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کی سائفر سے متعلق میٹنگ میں شامل تھا، چیئرمین پی ٹی ا?ئی نے 2 بار فوج سے مذاکرات سے منع کیا۔سربراہ عوامی مسلم لیگ نے کہا کہ مجھ سے ایم کیو ایم نے بات کی تو اندازہ ہوگیا تھا ہمارا کام ختم ہوگیا، 9 مئی کے واقعات کے وقت ملک سے باہر تھا، میں نے 9 مئی واقعات کی 10 مئی کو مذمت کی، میری مذمت کو زیادہ سنا نہیں گیا۔ سیاستدان کو کسی فوجی کا نام نہیں لینا چاہئے، 9 مئی واقعے میں غیرسیاسی لوگوں نے اہم کردار ادا کیا، ملک اداروں کے بغیر نہیں چل سکتا، سیاستدان اور اداروں کو ملکر چلنا چاہئے، اسٹیبلشمنٹ سے ہماری لڑائی بنتی ہی نہیں تھی۔انہوں نے کہاکہ پہلے دن سے اپنی افواج کے ساتھ ہوں،پاک فوج دنیا کی عظیم فوج ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کو ہمیشہ کہا فوج سے بناکر رکھیں،میری بھی کوشش تھی اس میں حصہ ڈالوں،انہوں نے کہاکہ 9 مئی واقعے میں غیر سیاسی لوگوں نے اہم کردار ادا کیا،اسٹشیبلشمنٹ سے ہماری لڑائی بنتی ہی نہیں تھی،ملک اداروں کے بغیر چل نہیں سکتا،سیاستدان اور اداروں کو مل کر چلنا چاہئے،انہوں نے کہاکہ جنرل عاصم منیر کو چھیڑنا ہی ہماری غلطی تھی،فوج کا مسئلہ فوج کو حل کرنا چائے، سیاستدانوں کو دور رہنا چاہئے،چیئرمین پی ٹی آئی کے دوستوں کا خیا ل تھا اندر ہمارے لوگ موجود ہیں،وہ سمجھتے تھے کہ اندر موجود لوگ ہماری مدد کریں گے۔میرے خلاف سوائے ٹویٹس کے کچھ بھی نہیں نکلا،ان کا کہ نا تھاکہ چیئرمین پی ٹی آئی ایک ضدی سیاستدان ہے،9 مئی کے واقعات کی ہر وقت مذمت کرنی چاہئے، پی ڈی ایم سے سیاسی لڑائی لڑوں گا،9 مئی کے واقعات میں ملوث لوگوں کی معافی کرواؤں گا،چلے سے عہد کر کے چلا ہوں غلطی کے باوجود ایک معافی ان کی کرواؤں گا۔چیئرمین پی ٹی آئی، شیریں مزاری، شہباز گل، زلفی بخاری نے بیانیہ بنایا اس کا رد عمل ہوا،9 مئی ایک دن کی بات نہیں اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے،کوئی شک نہیں 9 مئی کے واقعہ کی منصوبہ بندی کی گئی،جن لوگوں نے یہ کم ظرفی کی ہے فوج ان کو اس دفعہ معاف کر دینا چاہئے،میری ایک سیٹ کی سیاست ہے اللہ کے حکم سے اس حلقہ سے قلم دوات جیتے گی۔