پاکستان کے ڈیفالٹ کا منترہ ختم ہوگیا، جو تباہی کی گئی ایک سال میں ٹھیک نہیں ہوسکتی، اسحاق ڈار

لندن (آن لائن)سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کے ڈیفالٹ کا منترہ ختم ہوگیا، جو تباہی کی گئی ایک سال میں ٹھیک نہیں ہوسکتی، ہوا میں نہیں کہتا تھا کہ ڈالر کی قیمت 200 روپے ہوگی، پاکستان کی کرنسی کے کیساتھ اسپیکولیٹرز کھیل کھیل رہے ہیں، انہیں نکیل ڈالنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق وزیر خزانہ نے لندن میں قائد مسلم لیگ ن نواز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ڈیفالٹ کا منترہ ختم ہوگیا ہے، ہم نے 2017ء میں اقتدار چھوڑا تو دنیا پاکستان کی تعریف کررہی تھی، جو تباہی کی گئی یہ ایک سال میں ٹھیک نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ کرنی ہے، 2017ء میں بھی پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ کرنا چاہتے ہیں، نگران حکومت تمام پالیسیز کو لیکر چلے تو ملک بہتر ہوگا۔ اسحاق ڈار نے مزید کہا ہوا میں نہیں کہتا تھا کہ ڈالر کی قیمت 200 روپے ہوگی، پاکستان کی کرنسی کے کیساتھ اسپیکولیٹرز کھیل کھیل رہے ہیں، میں نے ان اسپیکولیٹرز کا کھیل 1999ء اور 2014ء میں بھی دیکھا ہوا ہے، انہیں نکیل ڈالنا حکومت اور اسٹیٹ بینک کی ذمہ داری ہے۔ سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ 4 سال میں ملکی معیشت 47ویں نمبر پر پہنچادی گئی معیشت وہاں لیکر گئے جہاں ہم 24ویں معیشت بن گئے تھے، ہم نے آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد شروع کیا۔ قبل ازیں میڈیارپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد و سابق وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت لندن میں مسلم لیگ ن کا اہم اجلاس ہوا۔اجلاس میں سابق وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے علاوہ حسن نواز اور سلمان شہباز بھی شریک ہوئے۔ پورٹس کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قائد مسلم لیگ کو ملک کی موجودہ معاشی صورتحال سے آگاہ کیا، نواز شریف نے اسحاق ڈار کو معاشی بحالی کیلئے جامع منصوبہ بنانے کی ہدایت کردی۔ اطلاعات کے بعد اسحاق ڈار نے قائد مسلم لیگ کی فوری واپسی کی مخالفت کر دی۔سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اپنے دورہ لندن کا دورانیہ بڑھا دیا، اطلاعات کے مطابق میاں شہباز شریف 10 دن کیلئے برطانیہ آئے تھے۔مسلم لیگ ن کی اہم میٹنگ اختتام پذیر ہوئی تو نواز شریف اور شہباز شریف میڈیا سے گفتگو کیے بغیر ہی روانہ ہو گئے۔