پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سمیت دیگر پارٹیوں کے رہنما بغیر سزا کے کئی سالوں تک جیلوں میں سڑتے رہے،شرجیل انعام میمن

کراچی (آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی نے بجلی کے نرخوں میں اچانک اضافے کو اِس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے نگران حکومت سیمطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے آئی ایم ایف سے بات کرے۔ سندھ کے سابق وزیرِ اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سمیت دیگر پارٹیوں کے رہنما بغیر سزا کے کئی سالوں تک جیلوں میں سڑتے رہے، لیکن لاڈلے کو محض 29 دنوں میں بڑا ریلیف دے دیا گیا ہے۔ سابق وزیرِ بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کے موقعے پر بننے والے مخالف سیاسی اتحاد پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے چیلنجز نہیں، پی پی پی کا مقابلہ الیکشن جیتنے کے بعد غربت، مہنگائی اور بے روزگاری سے ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سیل بلاول ہاوَس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میڈیا سیل بلاول ہاؤس کے انچارج سریندر ولاسائی اور دیگر رہنما بھی پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ تھے۔ شرجیل انعام میمن اور سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں، مہنگائی کے خلاف اور عوام کو ریلیف دینے کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نگران حکومت عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی صارفین کو بھیجے گئے غلط بلوں کا نوٹس لے۔ شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کا ویڑن ہے کہ اس نے ہمیشہ مستقبل میں پیش آنے والی مشکلاتوں سے قبل اقدام کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ادوارِ حکومت کے دوران ملک میں تھرکول منصوبہ، شمسی توانائی، ونڈ پاور منصوبہ اور گیس سے بجلی کی پیداوار کے منصوبے متعارف کرائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں سب سے سستی بجلی تھر کول منصوبے سے حاصل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں ایسے وفاقی وزراء بھی رہے ہیں جنہوں نے کظ لکھے تھے کہ ملک میں مزید بجلی بنانے والے منصوبوں کی ضرورت نہیں ہے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ غریب عوام کو ریلیف دینا حکومت کی ذمیداری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک طرف ملک میں مہنگائی تھی، تو دوسری جانب سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے علاج معالجے کی مفت سہولیات، دو لاکھ خاندانوں کو شمسی توانائی کی سہولیت، اور پیپلز بس سروس جیسے کئی منصوبے متعارف کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت سندھ میں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار بھی دینا چاہتی تھی، لیکن ایم کیو ایم نے کورٹ سے اسٹی آرڈر لے کر عوام سے دشمنی کی۔ شرجیل انعام میمن نے سندھ کی نگران حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو بند نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی کی منظور شدہ بجٹ کے تحت چلنے والے منصوبوں کو بند کرنا ناانصافی ہے، اور ان منصوبوں میں اکثریت سیلاب متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی کے منصوبے ہیں۔ خود میرے حلقے میں ڈرینیج کے ایک منصوبے کو روک دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں مقامی لوگوں میں بہت غصہ ہے۔ سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آئندہ عام انتخابات میں سوئیپ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ہر الیکشن کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف اتحاد بنتے رہے ہیں، لیکن وہ ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے ملک بھر میں بجلی کے نرخون میں اچانک اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کو بتائے کہ ان کے بجلی کے بلوں میں کیوں اضافہ ہوا ہے.