اسلام آباد(آن لائن)سابق وفاقی وزیر شریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کے جسمانی ریمانڈ پر محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذولقرنین نے محفوظ فیصلہ سنایا۔اے ٹی سی جج نے ایمان مزاری کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ایمان مزاری کی جانب سے حفاظتی ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔درخواست میں سیکرٹری داخلہ،آئی جی اسلام آباد،ایف آئی اے اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو فریق بنایا گیا۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ایمان مزاری کو دو مقدمات میں ضمانت کے بعد تیسرے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا،ایمان مزاری کو ایک کے بعد ایک مقدمے میں گرفتاری کا سامنا ہے۔درخواست گزار کو حفاظتی ضمانت فراہم کی جائے تاکہ وہ ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے متعلقہ عدالت سے رجوع کر سکیں،ایمان مزاری مقدمات کی تفتیش میں مکمل تعاون کرنے کیلئے بھی تیار ہیں۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت ایف آئی اے اور صوبائی اداروں کو گرفتار کرنے سے روکے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز بغاوت اور اشتعال پھیلانے کے کیس میں سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کو ضمانت ملی تھی۔ ایمان مزاری کو اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا تاہم رہائی کے فوری بعد ہی انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اسلام آباد پولیس نے ایمان مزاری کو اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتار کیا،پولیس نے وکلا کو بتایا کہ تھانہ بھارہ کہو میں درج مقدمہ میں گرفتار کیا گیا۔جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت میں ایمان مزاری کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت ہوئی،عدالت میں ایمان مزاری کی جلسے میں تقریر کا سکرپٹ پڑھ کر سنایا گیا۔ عدالت نے ایمان مزاری اور علی وزیر کی ضمانت منظور کی،ضمانت 30،30 ہزار روپے مچلکوں کے عوض منظور کی گئی۔
Load/Hide Comments



