نگران وزیراعظم نے آج بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ہے

اسلام آباد(آن لائن) نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کی بجلی کے بلوں کے حوالے سے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے عوام مشکل صورتحال سے دوچار ہیں،نگران وزیراعظم نے آج اتوار کو بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ہے، پاور سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز کو اجلاس میں مدعو کیا گیا ہے،یہاں وہ سیکرٹری پاور ڈیژ کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے۔وفاقی سیکرٹری ڈویژن نے کہاکہسیکریٹری توانائی نے گریڈ 17 سے اوپر کے افسران کے بجلی یونٹس کی سہولت ختم کرنے سے متعلق اعلان کردیا، سیکریٹری توانائی راشد لنگڑیاں نے صحافیوں کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ ڈسکوز سمیت دیگر کے گریڈ 17 اور اوپر کے افسران کو بجلی یونٹس کی سہولت ختم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجلی یونٹس کی سہولت ختم کرنے سے متعلق سمری جلد تیار کرلی جائے گی۔راشد لنگڑیاں نے مزید کہا کہ بجلی کی چوری ہو رہی ہے، پاور سسٹم بہت سی خرابیوں کا شکار ہے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔توانائی سیکٹر کے حکام کے مطابق بجلی کا گردشی قرض 2 ہزار 300 ارب روپے ہے جبکہ ملک میں 250 ارب کی بجلی چوری ہو رہی ہے۔توانائی سیکٹر حکام کے مطابق بجلی کی قیمت اضافے کی سب سے بڑی وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری ہے۔ صارف کے لئے بجلی کے ٹیرف کا تعین تین طریقوں سے ہوتا ہے،بجلی کے ٹیرف کا تعین نیپرا کرتا ہے، سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا تعین نئے پاور پلانٹس کے لئے ہے، کنزیومر پرائس انڈیکس کے تحت بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل ہوتا ہے،فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے بھی بجلی کی قیمتوں میں فرق آتا ہے، اگر ایک صارف مئی میں تین سو یونٹ استعمال کرتا ہے اور اس کا جولائی کے بل میں فرق لگ کر آتا ہے،مالی سال 2023ء میں ہم نے جو 195 روپے ڈالر ریٹ کے مطابق نرخ نوٹیفائی کئے جبکہ ڈالر کی قیمت 284 روپے تک گئی،ہم نے آر ایل این جی کی قیمت 3183 ایم ایم بی ٹی یو روپے مقرر کرنے کا پلان بنایا جبکہ آر ایل این جی کی قیمت 3 ہزار سے 3800 کے درمیان رہی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح درآمدی کوئلے کی قیمت بھی 51 ہزار سے 61 ہزار روپے فی میٹرک رہی، اگلے سال ہم نے 2 ٹریلین روپے صرف کپیسٹی پے منٹس کی مد میں ادائیگیاں کرنی ہیں، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا بڑا فرق 400 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والوں پر لاگو ہوا،63.5 فیصد ڈومیسٹک صارفین کے لئے ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، 31.6 فیصد ڈومیسٹک صارفین کے لئے بجلی کی قیمتوں میں 3 روپے سے 6.5 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا، صرف 4.9 فیصد ڈومیسٹک صارفین کے لئے ٹیرف میں 7.5 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا،ڈومیسٹک صارفین کے لئے اوسطاً ٹیرف میں 3.82 روپے کا اضافہ ہوا،دیگر کیٹیگریز میں آنے والے صارفین کے لئے 7.5 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا، جولائی 2022ء میں زیادہ سے زیادہ بجلی کا ٹیرف 31.02 روپے فی یونٹ تھا،اگست 2023ء میں 33.89 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت ہے،ڈیسکوز کے افسران کو فراہم کئے جانے والے بجلی کے مفت یونٹس ختم کر رہے ہیں،واپڈا کے پرانے ملازمین علاوہ کسی محکمے میں بجلی کے بلوں میں رعایت نہیں دی جا رہی، اس وقت یہ رعایت ڈسکوز کے ملازمین کو مل رہی ہے۔ایسا نہیں کہ تمام بوجھ بجلی کا بل ادا کرنے والوں پر ڈالا جا رہا ہے۔