اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد پولیس نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کو گرفتار کرلیا۔شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان مزاری نے جمعہ کے روز ایک تنظیم کے جلسے میں ملکی اداروں کے خلاف تقریر کی تھی۔سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ خواتین پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد ان کی بیٹی کو لے گئے۔ان کاکہنا تھا کہ اہلکاروں سے وارنٹ کا پوچھا جو انہوں نے نہیں دکھائے، انہوں نے پورے گھر کا چکر لگایا، گھر میں ہم صرف دو خواتین تھیں، میری بیٹی اپنے رات کے کپڑوں میں تھی، اس نے اہلکاروں سے کہا کہ مجھے کپڑے بدلنے دو لیکن وہ اسے گھسیٹ کر باہر لے گئے۔شیریں مزاری نے لکھا کہ یہ یقینا کوئی وارنٹ یا کوئی قانونی طریقہ کار نہیں، ریاستی فاشزم ہے اور یہ ایک طرح سے ایک اغوا ہے۔دوسری جانب اسلام آباد کے تھانہ ترنول پولیس نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کو گرفتار کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔بعد ازاں اسلام آباد کچہری میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیریں مزاری نے کہا کہ ایمان کی گرفتاری کے لیے اہل کار گیٹ پھلانگ کر اندر آئے۔انہوں نے کہا کہ گارڈ کو کیبن میں بند کیا گیا، موبائل چھین لیا اور دروازہ توڑنے کی کوشش کی گئی، میرے کمرے میں چیزوں کو بھی ٹٹولا اور سرچ کیا گیا۔شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ اہلکارایمان مزاری کو گھسیٹ کر باہر لے کر گئے،ان کا موبائل اور لیپ ٹاپ لے کر چلے گئے، میرا ہاتھ کھینچا اور موبائل بھی لے کر چلے گئے۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ گھر میں 20 کے قریب افراد گھسے تھے، 6 خواتین پولیس اہلکار گھر میں دیکھیں۔گھر میں ایمان اور میں رہتے ہیں، نہ جانے کیوں دروازہ توڑ کر آتے ہیں، اسے بغیر وارنٹ کے گرفتار کیا گیا۔
Load/Hide Comments



