ملک کا76واں یوم آزادی جوش وخروش کے ساتھ منایا گیا

اسلام آباد / کراچی(آن لائن) پاکستان کا 76واں یوم آزادی پیر 14 اگست کو قومی جذبے اور ملی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21توپوں کی سلامی دی گئی، ملک بھر میں مختلف مقامات پر پرچم کشائی کی تقریبات منعقد کی گئیں جن میں اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ۔سرکاری و نجی عمارتوں اور سڑکوں، بازاروں اور مارکیٹوں میں شاندار چراغاں کیا گیا ہے جبکہ قومی پرچم، جھنڈیاں، بانیانِ پاکستان کی تصاویر اور بینرز جگہ جگہ آویزاں کیے گئے ہیں۔یومِ آزادی کے موقع پر مزار قائد اور مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پْروقار تقاریب بھی منعقد کی گئیں۔شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے مزار پر پاک فوج کے چاق چوبند دستے نے رینجرز کی جگہ گارڈز کے اعزازی فرائض سنبھال لیے۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر بھی گارڈز کی تبدیلی کی تقریب روایتی جوش و خروش سے منعقد کی گئی۔تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان نیول اکیڈمی کے کموڈور محمد خالد تھے، پاکستان نیول اکیڈمی کے کیڈٹس نے مزار قائد پر اعزازی گارڈز کے فرائض سنبھال لیے۔اسلام آباد میں واقع کنونشن سینٹر میں پرچم کشائی کی تقریب کا انعقاد ہوا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے کہا کہ میں بانیانِ پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے پاکستان کے لیے جدوجہد کی اور ملک بنا کر ہمارے ہاتھوں میں سونپ دیا۔انہوں نے کہا کہ ہماری آزادی کی جدوجہد 1857 سے شروع ہوچکی تھی جب دہلی کی گلیاں اور بازار مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے، اس قربانی کے بعد سرسید احمد خان جیسے قائدین نے علم کی داغ بیل ڈالی اور مسلمانوں کو علمسے جوڑا، علامہ اقبال نے امت کو نظریہ دیا اور پھر قائد اعظم محمد علی جناح کی جدوجہد نے دنیا کا نقشہ بدل دیا اور ایک قوم بنا دی۔ان کا کہنا تھا کہ آزمائشوں کی گھڑی میں ان قربانیوں کی یاد دہانی ضروری ہے تاکہ ہم اپنی جستجو کو مزید مستحکم کریں، آج بھی ہمارے فوجی جوان اور عوام مسلسل شہادتیں دے رہے ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہم ایک لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، ان سب کی قربانیوں کو میں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔صدر عارف علوی نے کہا کہ یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ یہ قربانیاں ہم نے جمہوریت، آزادی، عدل اور مساوات کی خاطر دیں، 13 جنوری 1948 کو قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ اسلام ہماری زندگی اور ہمارے وجود کا بنیادی سرچشمہ ہے، ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں پر عمل کر سکیں۔اسی طرح دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں میں بھی یوم آزادی کے سلسلے میں خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا گیا جن میں پاکستانی تارکین وطن نے شرکت کی۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان 1947 میں برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کر کے معرض وجود میں آیا۔14 اگست کا دن پاکستان میں سرکاری سطح پر قومی تہوار کے طور پر بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے، پاکستانی عوام اس روز اپنا قومی پرچم فضا میں بلند کرتے ہوئے اپنے قومی محسنوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔