نواز شریف اگلے ماہ پاکستان آجائیں گے،نواز شریف قانون کا سامنا کریں گے،نہ وہ ٹوپ پہنیں گے، نہ بالٹی پہنیں گے،وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد(آن لائن)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے کہا کہ سائفر سے متعلق میری سربراہی میں نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی دو میٹنگز ہوئیں، موجودہ سیکریٹری خارجہ ایک میٹنگ میں ہمارے ساتھ تھے۔ سیکریٹری خارجہ مبینہ سائفر کے وقت امریکا میں ہمارے سفیر تھے، انہوں نے کہا کہ میری ڈونلڈ لو سے ملاقات ہوئی، ان سے جو گفتگو ہوئی وہ یہاں پیش کی، گفتگو میں سازش کا کہیں دور دور تک تذکرہ بھی نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں جنرل باجوہ، نیول چیف، ایئر فورس کے چیف بھی موجود تھے، سب نے تائید کی کہ چیئرمین پی ٹی ا?ئی کی حکومت گرانے میں امریکا نے سازش نہیں کی، ہمارے موجودہ وزیر خارجہ نے کہا کہ گفتگو میں سازش کی بات دور دور تک نہیں۔نجی ٹی وی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف اگلے ماہ پاکستان آئیں گے اور قانون کا سامنا کریں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین کی کس بات پر یقین کریں؟ اس بات پر کہ امریکا نے سازش کی یا امریکا نے سازش نہیں کی، وہ سر سے پاؤں تک جھوٹ کا پلندہ ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کا سائفر ڈرامہ ایک بہت بڑا جرم تھا، تحریک انصاف کی حکومت نے سعودی عرب سے تعلقات خراب کرنے کی مجرمانہ کوشش کی، سعودی حکومت کے خلاف ایک بلاک بنانے کی اسے تنہا کرنے کی کوشش کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ نگران وزیر اعظم کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا،،مشاورت کا عمل جاری ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اگلا الیکشن صرف نواز شریف کے کارکن کی حیثیت سے لڑیں گے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ میری کارکردگیسے متعلق سوال نواز شریف سے ہی پوچھ لیں،نواز شریف والد کی جگہ ہیں سمجھاتے ہیں، ان کے مشورے پر عمل کرتا ہوں،احتساب کا عمل سب پر لاگو ہے،احتساب شفاف طریقے سے ہونا چاہئے اسی طریقے سے آگے بڑھ سکتے ہیں،کل رات صدر نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کر دیئے تھے،امید ہے کہ اپوزیشن لیڈر سے نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق ہو جائے گا۔امید ہے3 روز سے پہلے نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق ہو جائے گا۔کل دوبارہ اپوزیشن لیڈر سے نگراں وزیراعظم کے نام سے متعلق ملاقات کروں گا۔