کراچی (آن لائن)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ نادرا کے فراہم کردہ ڈیٹا اور بجلی و گیس کے میٹرز کی تعداد کی بنیاد پر یہ امر ثابت شدہ ہے کہ دھوکا دہی اور جعل سازی سے کراچی کی اصل اور حقیقی آبادی کو کم کیا گیا ہے، نادرا کے مطابق کراچی میں ایک کروڑ 91لاکھ افراد ایسے رہائش پذیر ہیں جو مستقل پتے کی بنیاد پر یہاں موجو ہیں،کراچی میں 30سے 35سال سے ایسے افراد بھی ہیں جن کا مستقل پتا ملک کے کسی اور صوبے کا ہے لیکن وہ عارضی پتے کی بنیاد پر یہاں زندگی گزربسر کر رہے ہیں تو کیا عارضی پتے پر رہنے والے صرف 12لاکھ ہیں؟ شہر میں 38ہزار ہائی رائز بلڈنگز ہیں۔ کراچی میں کے الیکٹرک کے ڈومیسٹک میٹرز کی تعداد 37لاکھ جبکہ 23لاکھ گیس کے میٹرز رجسٹرڈ ہیں، بجلی کے ایک میٹر پر اوسط ً 10افراد اور گیس کے ایک میٹر پر افراد کی تعداد 16بنتی ہے اگر ان میٹرز کی تعداد اور اس سے منسلک افراد کی تعداد کا حساب لگایا جائے تو کراچی کی آبادی کسی طور پر ساڑھے تین کروڑ سے کم نہیں۔ ان حقائق کا واضح مطلب ہے کہ خود قومی اور حکومتی اداروں کے اعداد و شمار 2023کی ڈیجیٹل مردم شماری میں کراچی کی ظاہر کی گئی آبادی کو غلط قرار دے رہے ہیں۔ اسی لیے جماعت اسلامی اہل کراچی کے جائز اور قانونی حق کے لیے سراپا احتجاج ہے اور ایم کیو ایم و پیپلز پارٹی کو بھی بے نقاب کر رہی ہے جو کراچی کی ڈیڑھ کروڑ آبادی کم کرنے کے جرم میں برابر کے شریک ہیں، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کراچی کی آبادی کم کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اگر کراچی کی آبادی بڑھے گی تو وڈیروں اور جاگیرداروں کی اجارہ داری کم ہو گی۔ ایم کیو ایم نے ایک بار پھر ماضی کی طرح چند وزارتوں اور اقتدار میں شرکت کے لیے کراچی کی آبادی کا سودا کیا، اہل کراچی اپنی گنتی کم کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرین گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب امیرجماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی کراچی منعم ظفرخان،نائب امراء کراچی راجہ عارف سلطان،سیف الدین ایڈوکیٹ،سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگر بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کو درپیش بیشتر مسائل مردم شماری میں ان کی گنتی پوری نہ کرنے سے جڑے ہوئے ہیں۔ 2017میں بھی کراچی کی گنتی کم کر کے کراچی کی حقیقی نمائندگی، وسائل اور ملازمتوں کے جائز اور قانونی حق پر ڈاکا ڈالا گیا تھا 2023میں بھی یہ ہی کیا گیا،2017میں کراچی کی آبادی تقریباً 3کروڑ تھی اور اگر اس بنیاد پر قومی و صوبائی اسمبلیوں میں کراچی کو نمائندگی ملتی اور اسی حساب سے پی ایف سی ایوارڈ میں حصہ ملتا تو کراچی اور یہاں کے عوام کے حق میں اچھا ہوتا لیکن آبادی پر ڈاکا ڈال کر اہل کراچی کی پیٹھ پر چھرا گھونپا گیا۔ حق تلفی و زیادتی کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اگر کراچی کی آبادی درست شمار ہو جائے تو سندھ میں کراچی کی نمائندگی بڑھ جائے گی اور وزیر اعلیٰ بھی کراچی سے منتخب ہو سکتا ہے لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہونے دیا جا رہا اور ایم کیو ایم بھی وڈیروں اور جاگیرداروں کی اجارہ داری قائم رکھنے میں پیپلز پارٹی کی سہولت کار بنی ہوئی ہے۔
Load/Hide Comments



