اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اب حکومت کے ساتھ 43 ہزار ایکڑ زمین کی ملکیت کا تنازعہ طے ہو گیا ہے، ریلویکی 300 ایکڑ زمین قبضہ مافیا سے واگزار کرائی، گزشتہ دور حکومت میں تاخیر کے باعث ایم ایل ون منصوبہ کی لاگت 9 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی،منصوبے کے دائرہ کار اور تخمینے سے متعلق چین سے معاملات طے پا گئے،پی آئی اے کے آپریشن میں زیادہ سے زیادہ اصلاحات کی ہیں،چار جدید ایئر بس 320 طیارے حاصل کیے گئے اور طویل عرصے سے کھڑے دو بوئنگ 777 طیاروں کی بحالی کی گئی،حالیہ ٹرین حادثے میں چھ اہلکاروں کو معطل کیا ہے، روزویلٹ تین سال کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔۔ پاکستان ریلویز، پی آئی اے،ایوی ایشن حکام کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں تاخیر کے باعث ایم ایل ون منصوبہ کی لاگت 9 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی،منصوبے کے دائرہ کار اور تخمینے سے متعلق چین سے معاملات طے پا گئے جس کے تحت لاگت 6.67 ارب ڈالر ہو گی،ریلوے کو زمینوں سے تین ارب بتیس کروڑ کی تاریخ ساز آمدن ہوئی،پی آئی اے کے آپریشن میں زیادہ سے زیادہ اصلاحات کی ہیں،چار جدید ایئر بس 320 طیارے حاصل کیے گئے اور طویل عرصے سے کھڑے دو بوئنگ 777 طیاروں کی بحالی کی گئی، اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی آوٹ سورسنگ 15 سال کے لیے کی جائے گی،اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی کامیاب آوٹ سورسنگ کے بعد لاہور اور کراچی ائیرپورٹس کی طرف جائیں گے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ سیلاب آیا تو ریلوے نے اپنے موجود فنڈز میں سے بحالی کا کام مکمل کیاریلوے کی زمینوں پر قبضہ ہو جاتا تھا اسے استعمال نہیں کر سکتے تھے۔موجودہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے شکرگزار ہیں جن کی بدولت زمینوں سے قبضہ واگزار کرایا گیا حالیہ ٹرین حادثے میں چھ اہلکاروں کو معطل کیا ہے روزویلٹ تین سال کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے و ایوی ایشن خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ایم ایل ون 6.8 ارب ڈالر کا منصوبہ تھا جو چھ سال میں مکمل ہونا تھا.
Load/Hide Comments



