لاہور (آن لائن)وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کور کمیٹی اجلاس میں بیشتر ارکان نے چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کیا ہے، سب حیران تھے کہ گرفتاری کا آرڈر اسلام آباد پولیس کے پاس تھا جبکہ گرفتاری پنجاب پولیس نے کی، آرڈر عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا تھا لیکن ان کو اٹک جیل لے جایا جاتا ہے، اٹک جیل میں بی کلاس تک کی سہولت بھی موجود نہیں ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔اعلیٰ عدلیہ کو فوری اس کا نوٹس لینا چاہئے، توقع ہے ہمیں انصاف دیا جائے گا۔ مرکزی میڈیاسیل کے مطابق اتوار کو پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کے بعد ویڈیو پیغام میں شاہ محمود قریشی نے کہا آج تحریک انصاف کور کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ ہمارے علم میں آیا ہے کہ ملک کے سابق وزیراعظم کو 9 بائی کے سیل میں رکھا گیا ہے، عمران خان کو بھجوایا جانے والا کھانا ان کو نہیں دیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی کی کے وکلاء کو ان تک رسائی دینے سے انکار کر دیا گیا۔وکلاء نے کل بھی کوشش کی اور اس وقت بھی وکلاء کی ٹیم اٹک جیل میں موجود ہے۔لاکھ کوششوں کے باوجود کیوں ان تک رسائی نہیں دی جا رہی، شاہ محمود قریشی نے کہا پیر کو ہم نے چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے اپیل دائر کرنی ہے۔وکالت نامے پر جب تک عمران خان کے دستخط نہیں ہوں گے ہم اپیل کیسے فائل کر سکتے ہیں۔طبی معائنہ کروانا ہر ملزم کا بنیادی حق اور جیل حکام کا فرض ہے۔پمز اور پولی کلینک میں تشکیل فیا گیا بورڈ منتظر تھا لیکن عمران خان کو وہاں نہیں لایا گیا، شاہ محمود قریشی نے کہا اٹک میں تو ایک مستند ڈاکر کا عہدہ موجود ہی نہیں ہے صرف ایک ڈسپنسر دستیاب ہوتا ہے۔وہاں یہ حالات ہیں کہ ضرورت پڑنے پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال سے ڈاکٹر کو بلوایا جاتا ہے۔عمران خان کو سی کلاس جیل میں رکھا گیا ہے۔ان کو فراہم کیے جانے والے کھانے پر بھی تشویش ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔اعلیٰ عدلیہ کو فوری اس کا نوٹس لینا چاہئے۔میں توقع کرتا ہوں کہ ہمیں انصاف دیا جائے گا۔امید ہے کہ عمران خان کو ان کا بنیادی اور آئینی حق دیا جائے گا،شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کور کمیٹی کی پہلی ترجیح عمران خان کا تحفظ اور ان کی رہائی ہے جس کیلئے ہم تگ و دو کر رہے ہیں.
Load/Hide Comments



