پشاور (آن لائن) جمعیت علماء اسلام (ف)کے رہنما ء مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات ریاست کے خلاف سازش ہے، قیام امن کے لئے قوم کا متحد ہونا وقت کی ضرورت ہے، پاکستان کے سیاستدان مشترکات اور آئین کو سمجھتے ہیں۔پاکستان کے خلاف ایجنڈے کو اپنے اتحاد سے ناکام بنائیں گے،ریاستی ادارے سیاسی جماعتوں کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھنے کو ترجیح دیں،پاکستان اور افغانستان میں استحکام دونوں ممالک کی ضرورت ہے،۔9 اگست کو حکومت چھوڑ رہے ہیں، پھر نگراں حکومت بنے گی۔نگران حکومت کا کام ہے الیکشن کرائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قبائلی جرگے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا ہماری تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ مجھ پر حملے ہوئے، گھر پر راکٹ آئے، بیٹے پر حملہ ہوا۔ہمارے علماء کی لمبی فہرست ہے جن کو دہشتگردی کانشانہ بنایا گیا۔کارکنوں کو یہی کہوں گا کہ صبروتحمل کا دامن نہ چھوڑیں۔ مو لانا فصل الرحمان نے کہا قبائلی جرگہ نے باجوڑ دھماکے میں جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور دھماکے میں جا ں بحق افراد کے اہلخانہ سے تعزیت کی گئی ہے۔جرگہ نے مختلف اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ جرگہ نے علی مسجد اور دیگر دہشتگردی کے واقعات کی بھی مذمت کی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا موجودہ صورتحال میں ریاستی ادار وں کو چاہئیے کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھنے کو ترجیح دیں،جرگہ نے امید ظاہر کی کہ سیاسی جماعتیں اتحاد کا مظاہرہ جاری رکھیں گی۔ جرگہ میں پاک افغان تعلقات موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا پاکستان اور افغانستان میں استحکام دونوں ممالک کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے سیاستدان مشترکات اور آئین کو سمجھتے ہیں۔پاکستان کے خلاف ایجنڈے کو اپنے اتحاد سے ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے کہا قبائلی عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے وعدے پورے کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔قبائلی علاقوں کے لئے اعلان کردہ فنڈز فوری جاری کئے جائیں انہوں نے بتایا کہ باجوڑ دھماکے میں شہداء کیلئے حکومت نے 20لاکھ، جے یو آئی نے 5لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ جرگہ نے پاکستان میں سعودی عرب اور امارات کی ممکنہ سرمایہ کاری کو خوش آئند قرار دیا۔تجویز دی گئی کہ کمیٹی قائم کی جائے جو صوبے اور مرکز سے رابطہ کرے۔انہوں نے کہا کہ جرگہ نے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی تجویز پیش کی۔ آج جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوری کا اجلاس ہوگا۔ جرگہ میں تجویز دی گئی کہ کمیٹی قائم کی جائے جو صوبے اور مرکز سے رابطہ کرے۔انہوں نے کہا پاکستان کی معیشت کی تباہی ایک بین الاقوامی ایجنڈ ہ ہے۔9 اگست کو حکومت چھوڑ رہے ہیں اور پھر نگراں حکومت بنے گی۔نگران حکومت کا کام ہے الیکشن کرائے۔ انہوں نے بتایا کہ جرگے میں 9 مئی کے واقعات کی مذمت کی گئی ہے اورکہا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات ریاست کے خلاف سازش ہیں۔فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام ضروری ہے۔الیکشن کا سامنا کرنا ہے انتخابی ماحول میں وحدت کو مدنظر رکھنا ہے۔قیام امن کے لئے قوم کا متحد ہونا وقت کی ضرورت ہے.
Load/Hide Comments



