آج بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر منسوخ کیے چار سال گزر چکے ہیں وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد(آن لائن)وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے یوم استحصال (5 اگست) کے موقع پر پیغام میں کہا ہے کہ آج بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر منسوخ کیے چار سال گزر چکے ہیں۔ تب سے بھارت نے کشمیری عوام کو دبانے کے لیے طاقت اور تشدد کے وحشیانہ استعمال کا سہارا لیا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے اقدامات کا ایک سلسلہ بھی شروع کیا ہے۔ بھارت نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو کمزور کرنے کے لیے کشمیری آبادی میں تبدیلیاں لانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے حالیہ اقدامات کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کے اس کے مذموم عزائم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے بھارتی حکام نے انتخابی حلقوں کی منتخب حد بندی کی ہے، لاکھوں غیر کشمیریوں کو جعلی ڈومیسائل جاری کیے ہیں اور موجودہ ووٹر فہرستوں میں ردوبدل کے لیے لاکھوں عارضی رہائشیوں کو شامل کیا ہے۔ یہ تمام اقدامات کشمیر کی آبادی اور سیاسی منظر نامے کو تبدیل کرنے کی سوچی سمجھی حکمت عملی کے جزو ہیں۔ پاکستان ایسے تمام یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو یکسر مسترد کرتا ہے۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر پر وحشیانہ قبضہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کی بھی تضحیک ہے۔ بھارت کشمیر میں ظلم و ستم جاری رکھے ہوئے ہے، اس مسئلے پر عالمی برادری کو مزید خاموش نہیں رہنا چاہئیے۔بھارت سات دہائیوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام پر قابض ہے، اور اس عرصے میں فوجی محاصرے اور میڈیا بلیک آؤٹ کے چار سال شامل ہیں۔ اس سب کے باوجود بھارت بہادر کشمیری عوام کو خاموش کرنے میں ناکام رہا ہے، جن کی آزادی کے لیے منصفانہ جدوجہد مزید تیز ہو گئی ہے۔ یکے بعد دیگرے بے گناہ کشمیریوں کی تین نسلیں آزادی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکی ہیں، لیکن اس سب کے باوجود آج بھی کشمیری عوام بھارتی قابض افواج کے بڑھتے ہوئے جبر کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ان بہادر کشمیری مردوں اور خواتین کو سلام پیش کرتا ہے اور انہیں بھارتی تسلط سے آزادی کے کی جد وجہد میں اپنی مسلسل حمایت کا یقین دلاتا ہے۔بھارت کشمیری عوام، عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے ساتھ اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ ناکامی بھارت کے ایک ذمہ دار رکن ریاست کے طور پر موقف کو سوالیہ نشان بناتی ہے۔ بھارت کا کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے سے انکار اس پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستان کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد کے جائز اور منصفانہ مقصد کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ یہ پاکستان کا اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں سے وعدہ ہے کہ ہم ان کی آواز ہر فورم پر اس وقت تک لے کر جائیں گے جب تک علمی برادری اس مسئلے پر ایکشن نہیں لیتی۔ علمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ بھارت پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر پر 5 اگست 2019 سے اب تک یکطرفہ اور غیر قانونی قبضہ ختم کرنے کے لیے زور دیا جائے۔جنوبی ایشیا کے لوگ امن اور استحکام کے خواہاں ہیں اور یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بامعنی مشاورت اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین اس گفتگو میں جموں و کشمیر کے تنازع سمیت دیگر مسائل پر بات چیت شامل ہے.