وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی نائب وزیر اعظم کی ون آن ون ملاقات

اسلام آباد(آن لائن)وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی نائب وزیراعظم نے وزیراعظم ہاؤس میں اہم ملاقات کی ہے، پاکستان اور چین کے درمیان مختلف معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کر دیے گئے، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اب تک 10 سال میں سی پیک کے تحت 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے، دوسرے مرحلے میں زراعت اور ائی ٹی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔چینی نائب وزیراعظم ہی لائفنگ کی وفد کے ہمراہ وزیراعظم ہاؤس امد پر وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزرائنے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزرائکا معزز مہمان سے فرداً فرداً تعارف کروایا۔ ذرائع کے مطابق چینی وزیراعظم کی وزیراعظم شہباز شریف سے ون آن ون ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور چائنہ پاکستان اکنامک کاریڈور منصوبے کی پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے اتفاق کیا گیا کہ سی پیک کے منصوبوں کی طے شدہ فریم ورک میں تکمیل پر توجہ دی جائے گی۔ اس موقع پر پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ سی پیک کے حوالے سے پاکستان اور چین کے درمیان جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت پر احسن اقبال اور وائس چیئرمین این ڈی آر سی نے دستخط کیے۔ دونوں ممالک کے درمیان ماہرین کے تبادلے کے طریقہ کار کے لیے ایم او یو پر احسن اقبال اور وائس چیئرمین این ڈی آر سی نے دستخط کیے۔ پاکستان سے چین کو خشک مرچوں کی برآمد کے حوالے سے فائیٹو سینٹری ضروریات پر پروٹوکول پر دستخط بھی کیے گئے۔ شاہراہ قراقرم کی ری الائنمنٹ منصوبے کے دوسرے مرحلے کی فیزیبلٹی سٹڈی کے لیے این ایچ اے اور چین کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اس موقع پر آگاہ کیا گیا کہ ایم ایل ون منصوبے کے فروغ کے لیے پہلے ہی سفارتی چینلز کے ذریعے ایم او یو پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر خطاب میں کہا کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور منصوبے پر 10 سال قبل سابق وزیراعظم نواز شریف اور صدر شی جن پن نے دستخط کیے تھے۔ 10 سال کے عرصے میں پاور، انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں چین کی جانب سے 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری پر توجہ دی جائے گی۔ آنیوالے وقت میں ایم ایل ون اور کراچی سرکلر ریلوے منصوبے انتہائی اہمیت کے حامل ہونگے۔