کراچی(آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ الزام تراشی سے کسی کوبھی کچھ حاصل نہیں ہوگا، پاکستان کی صنعت کو درپیش چیلنجز کو مل بیٹھ کر دور کرنا ہوگا، انشاء اللہ اس سال کپاس کی ریکارڈ پیداوار حاصل کرلیں گئے،بجلی سستے نرخوں پر نہ ملنا صنعتوں کیلئے بڑا دھچکا ہے،مسائل راتوں رات نہیں تو بہت جلد حل ہوجائینگے،ہم اپنے ہمسائیہ ممالک سے پیچھے رہ گئے ہیں مگر یہ ہمیشہ کیلئے نہیں ہوگا،مسائل کے ٹھوس حل کیلئے تاجروں سے بات چیت کیلئے تیار ہیں،تاجر پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،ایکسپورٹرز کی کوششیں اور کاوشیں قابل تحسین ہیں،کراچی پاکستان کا سب سے زیادہ کمانے والا شہر ہے،روشنیوں کا شہر کراچی گیٹ وے ٹو پاکستان ہے ۔کراچی چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام ایکسپورٹ ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج مجھے بہت خوشی ہے کہ میں کراچی چیمبر آف کامرس جو کہ پاکستان کا بانی چیمبر ہے میں یہاں آپ کی دعوت پر آیا ہوں اور کراچی نہ صرف پاکستان کا روشنیوں کا شہر ہے نہ صرف گیٹ وے پاکستان ہے بلکہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا کماؤ شہر ہے یہاں پر جو ہمارے ایکسپورٹرز، ٹریڈرز اور بینکرز ہیں یہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور مشکلات کے باوجود آپ نے اپنی پوری کاوشیں کیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم صنعتی دوڑ میں جو ہمارے قرب و جوار میں ممالک ہیں ان سے پیچھے ر ہ گئے ہیں اس میں حکومت آج کی ماضی کی حکومتیں ان کا کتنا قصور ہے حالات کا کتنا دخل ہے اور کمپٹیشن میں ہماری انڈسٹریز ماڈرن تکنیک کو کس حد تک استعمال کیا یہ وہ عوامل ہے جو بڑا سوالیہ نشان ہے کہ ہمیں مل بیٹھ کر اس کا حل نکالنا ہے اگر ہم بلیم گیم میں جائینگے تو سوائے ایک دوسرے کو الزام دینے کے کچھ نہیں ہوگا میں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سمجھتا ہوں کہ آج ہمیں وقت ضائع کئے آپ کے ساتھ مل بیٹھ کر بڑی فرینک گفتگو ہونی چاہیے کہ کس طرح پاکستان کی صنعت و حرفت کو جو چیلنجز کا سامناہے اس کو حکومت وقت کس حد تک اس فیسلٹیٹ کرسکتی ہے آپ نے بجلی کی بات کی گیس کی بات کی لیکن جس طرح زبیر موتی والا نے اپنی بریفنگ میں دکھایا اور مجھے یقین ہے کی بریفنگ فیکٹ پر مبنی ہے میں سمجھتا ہوں کہ جو دوسرے فیکٹ آپ نے بتائے ہیں وہ ٹھیک ہیں میں کہتا ہوں کہ آپ لوگ پاکستان کی ترقی، خوشحالی، روزگار، پیداوار، ایکسپورٹس میں آپ کا رول ایک ایسا رول ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے اور مشکل حالات کے باوجود آپ اس محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ بھی کراچی کا بہت بڑا نام ہے کہ یہاں صنعتکار، سرمایہ کار پاکستان کی ترقی میں دل کھول کر حصہ لیتے ہیں خدمت خلق کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں پاکستان میں اس حوالے سے آپ کی ممتاز پوزیشن ہے مگر یہ پبلک سروس تب ہی ہوگی کہ وسائل کا برابر کی سطح پر اضافہ ہو یہ تبی ہوگا کہ آپ منافع کمائیں دنیا میں اپنی مصنوعات کو بہترین طریقے سے متعارف کرائیں اس میں حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس حوالے سے تمام وسائل فراہم کرے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جو یہ حکومت سولہ مہینے کی اور ماضی کی 75سال پر محیط حکومتیں یہ ا یک فعلیر ہے یا کامیابی کی سٹوریاں ہیں دونوں سٹوریاں ہیں میں پہلی بات کرتا ہوں کہ بجلی کی اب اگر بجلی آپ کو یعنی مقابلے کے حوالے سے ایسے نرخوں پر نہیں ملے گی جس سے آپ اپنی مصنوعات کو دوسرے ممالک کے مقابلے میں ایکسپورٹ کرسکیں تو یہ بہت بڑا سیٹ بیک ہوگا کپاس کے حوالے سے دیکھیں کہ پاکستان کپاس پیدا کرنے والا ملک ہے مگر پچھلے چند سالوں میں ہماری کپاس کو نظر لگ گئی اور کپاس کی پیداوار میں بہت کمی ہوگی میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤنگا اس سال امید ہے کہ ایک بمبر کپاس کی فصل ہونے جارہی ہے ایک محتاط اندازہ ہے کہ پنجاب اور سندھ کو ملا کر ہم دس ملین گانٹھوں تک پیداوار تک پہنچ جائینگے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلیم گیم میں جائیں گے تو نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا، تاجر پاکستان کیلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ الزام تراشی سے کسی کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا، ایکسپورٹرز کی کوششیں اور کاوشیں قابل تحسین ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صنعتکار صرف یہ مطالبات نہ رکھیں کہ انہیں کیا کیا چاہیے، اسلام آباد آئیں ہم مل کر بیٹھ کر جامع ایکسپورٹ پالیسی بناتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کو مشکلات سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کریں، ملک میں گیس کی پیداوار انتہائی محدود ہے۔
Load/Hide Comments



