وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور امریکی ہم منصب کا ٹیلی فونک رابطہ

اسلام آباد،واشنگٹن(آن لائن) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں کی مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔دونوں وزراء خارجہ نے تعلقات، امن و سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے تعمیری روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ انتونی بلنکن کی گفتگو پر ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے بیان جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ امریکی وزیر خارجہ نے پاکستانی عوام کے ساتھ مضبوط امریکی کمٹ منٹ کا اعادہ کیا، پاکستان کی اقتصادی ترقی امریکا کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔امریکی وزیر خارجہ کی یقین دہانی انتونی بلنکن نے یقین دہانی کروائی کہ تکنیکی اور ترقیاتی اقدامات کے ساتھ پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطہ میں رہیں گے۔انہوں ں ے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بھرپور تجارتی اور سرمایہ کاری کے حوالے سے تعلق کو فروغ دیں گے، آئی ایم ایف سے پاکستان کا حالیہ معاہدہ خوش آئند ہے اور پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے اصلاحات میں سپورٹ فراہم کریں گے، جمہوری اصول اور قانون کی حکمرانی کو پاک امریکا تعلقات میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے تسلیم کیا کہ پاکستان عوام دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کے ساتھ مسلسل شراکت کو مضبوط بنائیں گے۔ترجمان کے مطابق ٹیلی فون گفتگو میں روس یوکرین جنگ اور افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔بعد ازاں ترجمان پاکستانی ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ امریکی سیکرٹری خارجہ نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو فون کیا ہے،دونوں اطراف نے پاک امریکہ تعلقات کی موجودہ مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا، وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ اور وسیع البنیاد تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، امریکی سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ اس شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہے، امریکی سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران چھ مذاکرات کے علاوہ اعلیٰ سطحی دوروں کے تبادلے نے تعلقات کو متنوع اور مستحکم کیا ہے،وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اقتصادی اور تجارتی تعلقات سے منسلک ترجیح اور موسمیاتی تبدیلی اور سبز توانائی پر تعاون کو آگے بڑھانے میں پاکستان کی خصوصی دلچسپی پر زور دیا، امریکہ کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پاکستان کی اقتصادی اور ترقیاتی ضروریات کو تقویت فراہم کرے گا، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان اپنی معیشت میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات لانے کے لیے پرعزم ہے،دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعمیری روابط کی اہمیت پر زور دیا،انہوں نے دہشت گردی کے خطرے سمیت علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا،افغانستان میں دیرپا امن و استحکام کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کی خواہش کا اعادہ بھی کیا گیا،وزیر خارجہ نے بلیک سی گرین انیشیٹو کی اہمیت کو خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے نقطہ نظر سے اور غذائی تحفظ اور افراط زر کے حوالے سے خدشات کو نوٹ کیا،وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اس معاہدے کو جلد از جلد بحال کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا،سیکرٹری بلنکن نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوری اصول اور قانون کی حکمرانی کا احترام پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اور یہ اقدار اس شراکت داری کو آگے بڑھانے میں رہنمائی کرتی رہیں گی،وزیر خارجہ کے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سے یہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور سیکرٹری بلنکن کے درمیان چوتھی ٹیلی فون کال تھی۔