فیصل آباد(آن لائن)وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے زیر اہتمام تاجروں اور صنعتکاروں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ ہم 12 اگست سے پہلے حکومت چھوڑ دیں گے اِس کے بعد نگران حکومت آئے گی جس کی زیر نگرانی عام انتخابات ہوں گے اور اس کے نتیجہ میں مینڈیٹ کے ساتھ جو حکومت بنے گی وہ آئندہ حکمت عملی طے کرے گی،نواز شریف کے دور حکومت میں پاکستان کی جامع،سماجی، معاشی اور صنعتی ترقی کی راہ ہموار کر دی گئی تھی مگر بعد میں آنے والی حکومت نے دانستہ معاشی تباہی کو فروغ دیا جس کی وجہ سے نہ صرف افراط زر اور مہنگائی بڑھی بلکہ ہمیں آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کی کڑوی گولی بھی نگلنا پڑی، اس وقت ”Do or Die“ کا مرحلہ ہے، آن لا ئن کے مطا بق تقریب سے وزیر خزانہ اسحق ڈار اور وزیر پٹرولیم مصدق ملک نے بھی خطا ب کیا، انہوں نے ملک کی معاشی ترقی میں فیصل آباد کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ یہاں کی بزنس کمیونٹی نے برآمدات بڑھانے کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت کے شعبہ میں قابل قدر کام کیا ہے اور یہ دین اور دنیا دونوں کمانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی میں برآمدات کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے اور اس شعبہ میں سب سے بڑا حصہ ٹیکسٹائل کا شعبہ ڈال رہا ہے۔ بجلی اور گیس کے نرخوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خارجی عوامل نے ہمارے اختیارات کو بھی محدود کر دیا ہے اور ہمیں سختی سے منع کر دیا گیا کہ ہم سبسڈی نہ دیں۔ گیس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم آئین کا حصہ ہے اِس لئے اس مسئلہ کو بین ا لصوبائی سطح پر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاشی خود مختاری ناگزیر ہے اور برآمدات بڑھا کے ہی ہم عزت و وقار سے زندگی گزار سکتے ہیں۔ انہوں نے درآمدات اور برآمدات کے بڑھتے ہوئے فرق پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اِس کیلئے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان زرعی ملک ہے مگر گندم اور کپاس کی درآمد ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے خصوصی پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ ایل سی نہ کھلنے کی شکایت کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا کہ زرمبادلہ کی قلت کی وجہ سے درآمدات کو کنٹرول کرنا پڑا۔ شمسی توانائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں اِس منصوبے پر کام شروع ہو گیا تھا جبکہ پہلا سولر پارک بہاولپور میں لگایا گیا مگر بعد میں آنے والی حکومت نے قومی مفاد کے اِن منصوبوں پرکام روک دیا۔ اگر ہم اس راستے پر چلتے تو آج لوگوں کی بڑی تعداد شمسی توانائی سے فائدہ اٹھا رہی ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اب بھی سولر پینل کی مقامی طور پر تیاری اور پن بجلی بارے پالیسی واضع کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اِن منصوبوں میں کسی نے کرپشن کی تھی تو اِس کی رو ک تھام کیلئے شفاف نظام تشکیل دیا جا سکتا تھا مگر اِس کی آڑ میں ملک کی مجموعی ترقی کو نقصان پہنچانا وطن عزیز پر ظلم کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے دور میں دس ہزار میگا واٹ بجلی باہر سے لیکر آرہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی مختلف ملکوں کی حکومتیں یہاں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں مگر اِس کیلئے سیاسی استحکام نا گزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں شمسی توانائی اور دیگر متبادل ذرائع کیلئے ونڈ ملز بھی لگائی جا سکتی ہے جس کیلئے کوششیں جاری ہیں۔
Load/Hide Comments



