پیمرا ترمیمی بل 2023 تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کیا گیا، مریم اورنگزیب

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پیمر ا ترمیمی بل 2023 تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے۔ بل میں میڈیا ورکرز کی تنخواؤں کا تحفظ کیا گیا ہے،جو چینل بروقت تنخواہ نہیں دے گا اسے اشتہار نہیں دیا جائیگا،چینل کو 2ماہ کے اندر ملازمین کو بقایا جات کی ادائیگی یقینی بنانا ہو گی،بل میں مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کا فرق واضح کیا گیا، ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن کا تعین اب 3رکنی کمیٹی کرے گی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان الیکٹر ک ترمیمی بل کے بارے میں بتاؤں گی، پیمرا بل گزشتہ ایک سال کے دوران تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد تیار کیا گیا۔ یہ اسٹیک ہولڈرز جوائنٹ کمیٹی کا حصہ ہیں جن میں پی ایف یو جے، پی بی اے، ایمنڈ، سی پی این ای اور اے پی این ایس شامل ہیں۔ بل کا بنیادی مقصد صحافیوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانا اور پاکستان میں آزاد، ذمہ دار اور اخلاقی میڈیا ماحول کو فعال کرنا ہے جیسا کہ دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں رائج ہے۔مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ یہ بل مختلف اہم دیرینہ مسائل اور معاملات کو حل کرے گا جن میں چیئرمین پیمرا کے غیر مرتکز اختیارات، پیمرا اتھارٹی اور شکایات کونسل میں پی ایف یو جے اور پی بی اے کی نمائندگی کا فقدان، صحافیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کی تعریف شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا جن کو لائسنس دیتا ہے ان کی تعداد 140 ہے۔گزشتہ چار سال میں میڈیا پر سینسر شپ رہی،پیمر ا ترمیمی بل پر تما م اسٹیک ہولڈر سے مشاور ت کی گئی، گزشتہ چا ر سال میں پیمرا کو میڈیا کے خلاف استعمال کیا گیا،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو میڈیا پریڈیٹر کا خطاب ملا، پی ٹی آئی دور میں صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی گئیں،چلتے پروگرام بند ہو جاتے تھے، چینلزکے لائسنس منسوخ ہو جاتے تھے،گزشتہ دور میں وزیر اطلاعات صحافیوں کو دھمکیاں دیتے تھے،صحافیوں کو گولیاں لگیں، جیلوں میں گئے۔انہوں نے کہا کہا گیا کہ دیکھتے ہیں کس طر ح یہ ترمیمی بل پاس ہو تا ہے جس کے بعد 23اپریل 2022کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی پہلی میٹنگ کی گئی جس میں میڈیا سے وابستہ تمام افراد موجود تھے، میٹنگ میں رہنمائی کی گئی کہ کس طر ح ذمہ دارانہ میڈیا کی بنیادر رکھ سکتے ہیں، 11ماہ اس پر صلاح مشورے جاری رہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ترمیمی بل دنیا کے مختلف ممالک کے بل کو دیکھ کر یہ بل بنایا ہے۔یہ بل صر ف حکومت کا نہیں میڈیا اور عوام کا بھی ہے،بل میں مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کا فرق واضح کیا گیا ہے،بل میں مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن پر پہلی بار قانون سازی ہوئی ہے۔۔ ترمیمی بل میں میڈیا ورکرز کی تنخواؤں کا تحفظ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو چینل بروقت تنخواہ نہیں دے گا اسے اشتہار نہیں دیا جائیگا، سرکاری اشتہار بر وقت تنخواہ کی ادائیگی سے مشروط کردیئے ہیں، چینل کو 2ماہ کے اندر ملازمین کو بقایا جات کی ادائیگی یقینی بنانا ہو گی، میڈیا ورکر اپنے ادارے کے خلاف شکایات درج کرا سکے گا،جو لوگ بل پر تنقید کر رہے ہیں یقینی طور پر کہتی ہو ں کہ انہوں نے یہ بل پڑھا ہی نہیں ہے۔ ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن کا تعین اب 3رکنی کمیٹی کرے گی۔پیمر ا پہلے یکطرفہ ریگولیشن کرتا تھا اب اس میں میڈیا کو بھی نمائندگی دی ہے۔