یوکرائن، روس تنازعہ کے پرامن حل کے لیے ہر اقدام کی حمایت کریں گے، بلاول بھٹو

اسلام آباد (آن لائن)وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ یوکرائن اور روس کے مابین تنازعہ کے پرامن حل کے لیے ہر اقدام کی حمایت کریں گے،یوکرائن تنازعہ کے باعث خوراک، ایندھن اور دیگر بحران پیدا ہوئے، پاکستان بھی متاثر ہوا، یوکرائن کو کسی طرح بھی اسلحہ فراہم نہیں کر رہے،اس بارے خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں، دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور عوامی روابط مزید مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوکرائن کے وزیر خارجہ دمترو کولیبا سے اسلام آباد میں ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں اقتصادی، تجارتی، زرعی، دفاعی شعبوں میں تعاون سمیت تعلقات کو وسعت دینے اور دوطرفہ مذاکرات پر اتفاق رائے طے پایا ۔ یوکرائن کی صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی اور صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا یوکرائن کے وزیر خارجہ کو پاکستان کے دورے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ انہوں نے یوکرائن کے عوام کے لیے امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔وزیر خارجہ کا کہناتھا یوکرائن اور روس کے مابین تنازعہ کے پرامن حل کے لیے ہر اقدام کی حمایت کریں گے۔یوکرائن تنازعہ کے باعث خوراک، ایندھن اور دیگر بحران پیدا ہوئے، پاکستان بھی متاثر ہوا۔دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور عوامی روابط مزید مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا پاکستان، یوکرائن سے گندم خرید رہا تھا، جنگ کے بعد پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہوئیں۔بلیک سی گرین اقدام ایک کلیدی اہمیت کا حامل ہے جس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ترکیہ، اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل اور روس سے بلیک سی گرین اقدام کو بحال کرنے کی بات کریں گے۔اس موقع پر یوکرائنین وزیر خارجہ دمترو کولیبا نے کہا پاکستان کی مسلح افواج کو مضبوط بنانے، اناج خصوصاً گندم کی فراہمی میں ہمیشہ تعاون کیا۔پاکستان دوست ملک ہے، دوست ہی مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔پاکستان اور یوکرائن مستقبل کی جانب دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا جنگ نے زندگی کا پہیہ نہیں روکا، تعلیم کے شعبے میں تعاون کریں گے۔جو طالب علم یوکرائن میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، انہیں واپس بلایا جائے گا۔ڈیجیٹل اور اقتصادی تعاون کو وسعت دیں گے۔پاکستان اہم شراکت دار ہے، دونوں ممالک مل کر غذائی سلامتی پر کام کریں گے۔بلیک سی گرین اقدام میں پاکستان، ترکیہ اور اقوام متحدہ ہمارے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔یوکرائن کے وزیر خارجہ نے کہا روس نے بلیک سی اقدام کو روکا، یوکرائن میں اناج کے ذخیرے تباہ کیے۔روس کے ان اقدامات سے دنیا کے بیشتر حصوں میں غذائی بحران پیدا ہوا۔بلیک سی گرین اقدام کو بحال کرنا یوکرائن کے کسانوں، دنیا میں عام آدمی کو معاون کرنا ضروری ہے۔ایک سول پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے مزید کہا یوکرائن کو کسی طرح بھی اسلحہ فراہم نہیں کر رہے۔یوکرائن کو اسلحہ کی فراہمی سے متعلق خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔ یوکرائن کے وزیر خارجہ دمترو کولیبا نے کہا فوجی تکنیکی تعاون میں پاکستان کو 90 کی دہائی میں الخالد ٹینکس کی تیاری میں مدد کی۔چاہتے ہیں پاکستان یوکرائن کا ساتھ دے۔پاکستان ان فورمز کے ساتھ ہو جو یوکرائن کو روسی جارحیت کے خلاف تعاون کر رہے ہیں۔