آرمی اتھارٹیز کسی شخص کو چارج کئے بغیر کیسے گرفتار کر سکتی ہیں؟شواہد کے بغیر کیسے الزامات کو عائد کیا جاتاہے؟ چیف جسٹس آف پاکستان

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان نے سویلینزکے فوجی ٹرائیل کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت کے موقع پر سوال اٹھایا ہے کہ آرمی اتھارٹیز کسی شخص کو چارج کئے بغیر کیسے گرفتار کر سکتی ہیں؟ شواہد کے بغیر کیسے الزامات کو عائد کیا جاتاہے؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سقم قانون میں ہے،کسی کے خلاف شواہد بغیر الزام لگانا بے کار اور مضحکہ خیز ہے۔سپریم کورٹ نے 1975 کے فیصلے میں طے کیا کہ جوڈیشل سائیڈ پر طے ہو گا ملزم کون ہے، آرمی ایکٹ کے تحت چارج کرنے کا طریقہ رولزمیں موجود ہے؟ابھی تک ہم ہوا میں بات کر رہے ہیں ٹو ڈی ٹو کے تحت کون سے جرائم آتے ہیں اس پر معاونت چاہیئے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ملزمان کے حوالے سے جو الزامات سامنے آنے ہیں ان کا تعلق آفیشل سیکرٹ ایکٹ سے نہیں ہے،لیاقت حسین کیس میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر کیس ملٹری کورٹ میں ٹرائی نہیں ہو سکتا بلکہ کیس کا تعلق آرمی ایکٹ کے ساتھ ثابت ہونا چاہیئے،آرمی والوں کی سب اہم چیز مورال ہوتی ہے،اگر مورال متاثر ہوتا ہے تو اس کا فائدہ بھی دشمن کو ہو گا،آرمی افسران کا مورال ڈاون کرنا بھی جرم ہے،آرمی افسران اپنے ہائی مورال کی وجہ سے ہی ملک کی خاطر قربانی کا جذبہ رکھتے ہیں،عید پر ہر کسی کو پتہ ہونا چاہیے کہ کون کون حراست میں ہے،عید پر سب کی اپنے گھر والوں سے بات ہونی چاہیے،ملزمان کی آج ہی اہلخانہ سے بات کروائیں،اب ہم عید کے بعد ملیں گے، جو لوگ گرفتار ہیں ان کا خیال رکھیں، وکلاء کے ساتھ کوئی بد سلوکی ہوئی تو تحفظ فراہم کریں،اگر کچھ ہوا مجھے فوری اگاہ کیا جائے،میں آئندہ ہفتے سے دستیاب ہوں گا، خواتین اور بچوں کا خصوصی خیال رکھا جائے۔منگل عدالت عظمیٰ میں معاملہ کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عائشہ ملک نے پوچھا کہ عدالتی نظائر کی رو سے کیا معیار مقرر کیا گیا ہے کہ کس کو عام عدالت اور کس کو فوجی عدالت میں ٹرائی کرنا ہے؟ اگر اندرونی تعلق کا پہلو ہو تو کیا تب بھی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا،ایف بی ایل ای کیس کہتا ہے کہ کسی سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے،یہ کیس سویلین کے اندر تعلق کی بات کرتا ہے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے مطابق یہ کون سا تعلق ہو گا،جس پر ٹرائل ہو گا،آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کے لیے جرم آفیشل سیکیریٹری ایکٹ کے تحت ہونا چاہیے،آفیشل سیکریٹ ایکٹ دیکھائیں، ممنوعہ علاقہ وہ ہونا ہے جہاں جنگی پلانز یا جنگی تنصیبات ہوں،کیوں خفیہ رکھا جا رہا کہ 102 ملزمان کون سے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اندرونی تعلق بارے جنگ کے خطرات دفاع پاکستان کو خطرہ جیسے اصول اکیسویں ترمیم کیس کے فیصلے میں طے شدہ ہیں،ہم ماضی میں سویلین کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی مثالوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے،ماضی کی ایسی مثالوں کے الگ حقائق،الگ وجوہات تھیں، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق تب ہوتا ہے جب کوئی ایسی چیز ہو جس سے دشمن کو فائدہ پہنچے،ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ کیا الزام لگایا گیا یہ تفصیل موجود ہی نہیں،اس وقت تو ملزمان پر کوئی چارج ہی نہیں ہے،ان مقدمات میں ملزمان پر پاکستان پینل کوڈ کے الزامات ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ صرفجنگ اور جنگی حالات میں کسی شخص کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے،جب بنیادی حقوق معطل نہ ہوں تو سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہو سکتا،دیکھنا ہو گا آرمی ایکٹ کے تحت تفتیش کیسے ہو گی اور فرد جرم کیسے لگے گی؟ ایک مجسٹریٹ بھی تب تک ملزم کے خلاف کاروائی نہیں کر سکتا جب تک پولیس رپورٹ نہ آئے،یہ تو سمجھ آتی ہے کہ پہلے گرفتار کرتے ہیں پھر تحقیقات کرتے ہیں، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہمیں اس بات پر کلیئر ہونے کی ضرورت ہے کہ ملزمان کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 2(D)(I) کے تحت تحویل میں لیا گیا یا 2(D)(II) کے تحت؟ آئی ایس پی آر کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس کے بعد صورتحال بالکل واضح ہے،کیا اندرونی تعلق جوڑا جا رہا ہے،یقینی بنایا جائے کہ زیر حراست افراد کی اپنے والدین سے بات ہو جائے۔قبل ازیں چیئر مین پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے موقف اپنایا کہ آرمی افسران کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری غیر قانونی ہے، سویلین کا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا،گزشتہ کل ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم 102 لوگوں کا ٹرائل کر رہے ہیں،پارلیمنٹ بھی آئینی ترمیم کے بغیر سویلین کے ٹرائل کی اجازت نہیں دے سکتا، اکیسویں ترمیم میں یہ اصول طے کر لیا گیا ہے کہ سویلین کے ٹرائل کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے،اس معاملہ میں جو کچھ بھی ہو گا وہ آئینی ترمیم سے ہی ہو سکتا ہے،اکیسویں آئینی ترمیم کا اکثریتی فیصلہ بھی یہ ہی شرط عائد کرتا ہے کہ جنگی حالات ہوں تب ٹرائل فوجی عدالت میں ہو گا،ہمارا ائین، ہمارے بنیادی حقوق، ہمارے قوانین سب ارتقائی مراحل سے گزر کر مختلف ہو چکے ہیں،اب ہمارے آئین میں آرٹیکل 10-A شامل ہے جس کو دیکھنا ضروری ہے، آئین کا آرٹیکل 175 تھری جوڈیشل سٹرکچرکی بات کرتا ہے،آئین کا آرٹیکل 9 اور 10 بنیادی حقوق کی بات کرتے ہیں،یہ تمام آرٹیکل بھلے الگ الگ ہیں مگر آپس میں ان کا تعلق بنتا ہے،بنیادی حقوق کا تقاضا ہے کہ آرٹیکل 175 تھری کے تحت تعینات جج ہی ٹرائل کنڈکٹ کرے،سویلین کا کورٹ مارشل ٹرائل عدالتی نظام سے متعلق اچھا تاثر نہیں چھوڑتا،کسی نے بھی خوشی کے ساتھ اس کی اجازت نہیں دی، فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے ملک میں بے چینی کی کیفیت ہو گی،ایف آئی آر میں کہیں بھی افیشل سیکریٹ ایکٹ کا ذکر نہیں کیا گیا،آرمی سپورٹس سمیت مختلف چیزوں میں شامل ہوتی ہے،اگر وہاں کچھ ہو جائے تو کیا آرمی ایکٹ لگ جائے گا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سزا میں ضمانت ہوسکتی ہے،ایف آئی آر میں تو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کازکر ہی نہیں ہے،ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے تحفظ پاکستان ایکٹ کو ضم کرکے انسداد دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئیں،2017 میں ترمیم کرکے 2 سال کی انسداد دہشتگردی کی دفعات کو شامل کیا گیا،شاعر احمد فراز کے مقدمے میں جسٹس افضل ظلہ نے کہ چونکہ ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی اس لئے ان کو ملٹری کورٹ میں ٹرائل نہیں ہو سکتا، ایف آئی آر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت ہوئی مگر ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت ہو رہا ہے،احمد فراز پر الزام لگاتھا مگر ان جو باضابطہ چارج نہیں کیا گیا،جو افراد غائب ہیں ان کے اہلخانہ شدید پریشانی کا شکار ہیں، میرے موکل چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق تو آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کا فیصلہ ہی بد نیتی پر مبنی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی پارٹی پر موقف دینے کی بھی پابندی ہے،میڈیا پر نہیں چلتا،کچھ مستند آوازیں ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر شکوک شبہات کا اظہار کر رہی ہیں،ہماری استدعا ہے کہ اوپن ٹرائل کیا جائے۔اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ میں اپنی کل کی بات پر قائم ہوں، 102 لوگوں کا ٹرائل نہیں ہو رہاعدالت میں وزارتِ دفاع کے لوگ موجود ہیں وہ میری بات کی تائید کریں گے،بھی جو کارروائی چل رہی ہے وہ فوج کے اندر سے معاونت کے الزام کی ہے،ابتدائی طور پر 2(D)(II) کے تحت ملزمان کو حراست میں لیا گیالیکن 2(D)(I) کے نتائج بھی ہو سکتے ہیں،ملزمان کی کسٹڈی لیتے وقت الزامات بھی فراہم کردیے گئے تھے،9 مئی واقعہکے 15 دن بعد ملزمان کی حوالگی کا عمل مکمل ہوا، اس وقت 102 ملزمان ملٹری تحویل میں ہیں،تحویل میں موجود ملزمان کو گھر والوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے گی، والدین بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کو ہفتے میں ایک بار ملاقات کی اجازت ہو گی،ملزمان کو جو کھانا دیا جاتا ہے وہ عام حالات سے کافی بہتر ہے،زیر حراست ملزمان کو دیا جانے والا کھانا محفوظ ہے یا نہیں اس کا ٹیسٹ تو نہیں ہوتا مگر وہ کھانا کھانے سے کسی کو کچھ ہوا تو ذمہ داری بھی شفٹ ہو جائے گی، زیر تفتیش ملزمان کی تفصیلات پبلک نہیں کی جا سکتیں،صحت کی سہولیات سب زیر حراست ملزمان کو مل رہی ہیں ڈاکٹرز موجود ہیں.