وفاقی بجٹ پورے سال کیلئے ،آنیوالی حکومت چاہے تو ردوبدل کر سکتی ہے،احسن اقبال

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر احسن اقبال برائے منصوبہ بندی نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ پورے سال کیلئے ہے لیکن آنے والی حکومت ضرورت پڑنے پر آئین کے مطابق ردوبدل کر سکتی ہے،امید ہے کہ آئی ایم ایف نواں جائزہ جلد مکمل کرلے گا،التواء کی وجہ سمجھ سے باہر ہے، ملک ایک دورا ہے پر کھڑا ہے، ہمیں بہت سے فیصلے کرنے ہیں، عوام کا تعاون چاہئے۔اگر ہم نے اپنا لائف اسٹائل تبدیل نہیں کیا تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ملک کی اقتصادی پیداوار سست ہے، ہمیں معیشت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ملک کی معیشت پر بہت اثرات پڑے۔ ہم نے انفرااسٹرکچر کی بحالی کیلئے پراجیکٹ شروع کرنے ہیں۔اتحادی حکومت میں ایسی جماعتیں بھی شامل ہیں جن کا تعلق پسماندہ علاقوں سے ہے۔ترقیاتی اسکیموں میں پسماندہ علاقوں کیلئے زیادہ رقم رکھی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مارکیٹیں رات 8بجےبند کرنے کے فیصلے کے بعد تاجروں سے بات کی۔کس ملک میں 6 بجے کے بعد تجارتی مراکز کھلے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ، ہم نے آؤ ٹ لک2025میں پیش کیا ہم نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہے،ہم نے بجٹ میں آئی ٹی،ایکسپورٹس پر توجہ دی ہے۔ احسن اقبال نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسٹرکچرل دریفارمز ایک سال کی حکومت کے بس میں نہیں۔ترقیاتی اسکیموں میں پسماندہ علاقوں کیلئے زیادہ رقم رکھی ہے۔آئی ایم ایف کے 9ویں جائزہ میں التواء کی وجہ سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ آئی ایم ایف نواں جائزہ جلد کرے گا۔بجٹ پورے سال کیلئے بنایا گیا ہے۔ہمیں انڈسٹریل سیکٹر، مائننگ کے شعبے میں ریفارمز کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط کو پورا کر دیا ہے اب اگر آئی ایم ایف کوئی اور بات کرتا ہے تو وہ سمجھ سے باہر ہے۔ہم نے جو بجٹ پیش کیا وہ پوری ذمہ داری او رایمانداری سے بنایا ہے اور ہم نے یہ بجٹ پورے سال کیلئے بنایا ہے لیکن آنے والی حکومت ضرورت پڑنے پر آئین کے مطابق ردوبدل کر سکتی ہے۔