وزیر اعظم کا کراچی میں کے فور کے سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب

کراچی (آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں جان بوجھ کر سیاسی افراتفری پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی جس کا 9 مئی کے واقعات پر اختتام ہوا،سازش کے تانے بانے سمندر پار جا ملتے ہیں، اتحادی حکومت نے مشترکہ کاوشوں اور باہمی مشاورت سے ان سازشوں کو دفن کردیا،سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کراچی کے ساتھ پانی پر سیاست جائز نہیں، تحریک انصاف حکومت نے ظلم کیا تو یہ کریمنل ایکٹ ہے، کے فور منصوبے کے لیے فنڈز بجٹ میں نمبرون ترجیح ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نے کراچی میں کے فور کے سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ سمجھ نہیں آ رہا تمام تقاریر کے بعد کیا اضافہ کروں، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم نے بڑی میٹھی باتیں کیں بہت خوشی ہوئی، چھوٹے بھائی بلاول بھٹو کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اتحادی حکومت گزشتہ ایک سال سے اتحاد سے چل رہی ہے، اگر حکومت میں اتحاد نہ ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی، اتحاد سے ہی ہم نے بڑے چیلنجز کا سامنا کیا۔ انہوں نے کہا 9 مئی کا دن پاکستان کی تاریخ میں تاریک ترین دن تھا لیکن اتحادی حکومت کی تمام مشترکہ کاوشوں اور باہمی مشاورت نے ان سازشوں کو دفن کردیا۔وزیراعظم نے کہا کہ 9 مئی کو جس طرح سے عمران نیازی کے جتھوں نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کی وہ تاریخ کا سیاہ باب تھا۔انہوں نے کہا کہ اس سازش کے تانے بانے سمندر پار جا ملتے ہیں اور سیاسی افراتفری کے باعث پاکستان معاشی ترقی نہ کر سکا۔وزیراعظم نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات پر انصاف کا طریقہ یہ ہے کہ جس طرح 6 جنوری 2021 کو امریکا میں ہوا اور وہاں جو سزائیں دی گئیں اگر یہاں بھی شہیدوں کے ساتھ انصاف کے لیے قانون کے تحت سزائیں دی ملتی ہیں تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں سیاسی افراتفری کی وجہ سے پاکستان معاشی لحاظ سے ترقی نہ کر سکا، بلاول بھٹو نے جو الفاظ میرے لیے کہے شکر گزار ہوں، یقین دلاتا ہوں ہم مل کر مسائل کو حل اور کشتی کو کنارے لگائیں گے، مشکلات اور چیلنجز ہیں لیکن ہارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، مہنگائی سمیت تمام مسائل کوحل کریں گے، پاکستان کو اس کا کھویا ہوا مقام دلائیں گے۔کے فور منصوبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح اس منصوبے کو سرد خانے کی نظر کیا گیا اور اس پر سیاست کی گئی وہ انتہائی افسوس ناک بات ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ سابق وزیراعظم کی پاکستان کے ہر شعبے میں فتنے پر مبنی سوچ تھی، اتنے اناپرست تھے کہ اگر میں ہوں تو سب کچھ ہے ورنہ کچھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ جو شخص 4 برس چور اور ڈاکو کے نعرے لگاتا رہا آج جب وہ خود کرپشن کے کیس میں آیا تو کہنے لگا جلاؤ گھیراؤ کرو، فوجی تنصیبات پر حملہ کردو۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر عمران خان نے بدنیتی کی بنیاد پر اس منصوبے کو مؤخر کیا تھا تو اس وقت کوئی چیلنج نہیں تھا لیکن آج چلینج ہے مگر اس کو فوری طور پر مکمل کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ منصوبہ اس لیے تمام منصوبوں سے اہمیت کا حامل ہے کہ اگر پینے کا صاف پانی میسر نہیں تو پھر آسودہ زندگی کیسے ہوگی۔وزیراعظم نے کہا کہ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کے ساتھ پانی پر سیاست جائز نہیں، آئندہ بجٹ میں اس منصوبے کو ترجیح دی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ صاف پانی آپ سب کا حق ہے، بلاول بھٹو بھی ٹینکر سے پانی پیتے ہیں، کراچی سب سے زیادہ کمائی کرنے والا شہر ہے، کراچی جیسے شہر میں پینے کے پانی پر سیاست کسی صورت جائز نہیں، تحریک انصاف کی حکومت نے ظلم کیا تو یہ کریمنل ایکٹ ہے،۔ اس موقع وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تقریب خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کے فور منصوبے سے صنعتوں کی پانی کی طلب پوری ہونے سے پاکستان کی معاشی ترقی ہو گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وفاقی وصوبائی حکومتیں اس منصوبے کی بروقت تکمیل کوخاص اہمیت دے رہی ہیں، کیفور منصوبے سے کراچی کو پہلے مرحلے میں روزانہ 260 ملین گیلن پانی کی سپلائی میسر ہو گی، کراچی شہرمیں 1200 ملین گیلن یومیہ پانی کی طلب ہے۔انہوں نے کہا کہ 260 ایم جی ڈٰکی صلاحیت کے ساتھ K-IV فیز -I کو واپڈا کے ذریعے 2025 میں مکمل کیا جائے گا، کیفور منصوبے کی اہم سرگرمیوں کیحوالے سے رقم کی آمد کے مسائل کا سامنا ہے، کیفور مکمل تب ہو گا جب تمام سٹیک ہولڈرز کی جانب سے فنڈز کی روانی کو یقینی بنایا جائے، وفاقی حکومت نے PSDP سے 113 ارب روپے فراہم کیے ہیں.وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کے فور منصوبے میں تاخیر کے باعث لاگت میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے، کے فور K-IV کراچی شہر جو منی پاکستان ہے اس کیلئے بہت بڑا ریلیف لائے گا، کراچی میں دومختلف مقامات پر پائلٹ بنیادوں پر سی واٹر ریورس اوسموس(SWRO) پلانٹس لگائے جا رہے ہیں.