کالعدم بلوچ نیشنل آرمی کے کمانڈر گلزار امام شمبے میڈیاکے سامنے پیش، قوم سے بے گناہ افراد کے قتل پر معافی مانگ لی

کوئٹہ (آن لائن)بلوچستان میں حکومت مخالف مزاحمتی تحریک کالعدم بلوچ نیشنل آرمی کے کمانڈر گلزار امام شمبے نے مزاحمتی تحریک کو ترک کرکے قومی دھارے میں شامل ہوکر قوم سے بے گناہ افراد کے قتل پر معافی مانگتے ہوئے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاست کے خلاف بندوق کا استعمال چھوڑ کرمذاکرات اور بات چیت کے عمل کا حصہ بن کر مزحمت کا سب سے زیادہ نقصان بلوچوں کا ہی ہورہا ہے۔ یہ بات انہو ں نے منگل کو وزیر داخلہ بلوچستان میرضیا اللہ لانگو اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سینٹیر آغا عمر احمد زئی کے ہمراہ سکندر آڈیٹوریم حال میں پریس کانفرنس کے دوران کیا کالعدم بلوچ نیشنل آرمی کے کمانڈر گلزار امام شمبے نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل گرفتاری ہوئی تھی اور دوران حراست ماضی کو پرکھنے موقعہ ملا اور بلوچ قومی پر امن تحریک کے حوالے سے بحث مباحثہ کیا گیا اور ریاست کو سمجھے بغیر اس کے خلاف کھڑے ہوئے اور تکلیف دے راستے کا انتخاب کیا مسلح جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ وہ مزید گھمبیر ہوتے ہیں مسلح جنگ میں ملوث ساتھی واپسی کاراستہ اختیار کرے تاکہ دلیل اور بات چیت کے ذریعے مسلے کا حل نکالا جاسکے جتنے بھی مسائل ہے ان کا حل پر امن بات چیت سے ہی نکلا ہے بلوچ طلباء لڑائی جھگڑے میں وقت ضائع کئے بغیر مسائل کے حل کیلئے قرادار ادا کریں وفاقی اور صوبائی حکومت اور مسلح تنظیمیں بلوچستان کے حالات کی ذمہ دار ہے گزشتہ کہی سالوں سے حالات کو اس نیج تک پہنچایا ہے ریاستی اداروں کو بلوچستان کے مسائل کے حل کا تدارک کا خیال ہے اور وہ اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں جنگ میں بے گناہ افراد کے قتل پر قوم اور نوجوانوں سے معافی کا طلب گار ہوں بلوچستان کے حالات کی خرابی میں بے روزگاری اور وسائل کی منصفافہ تقسیم نہ ہونا سب سے بڑی وجہ ہے مسلح تحریکوں کا سب سے زیادہ نقصان بلوچوں کا اپنا ہورہا ہے کچھ عرصہ قبل گرفتار ہوا تو مزاحمتی تحریک کا باریک بینی سے جائزہ لیا ریاست اور بلوچستان کی جیو پولیٹیکل اہمیت کو سمجھے بغیر جنگ لڑنے کی غلطی کا ادراک ہوا کچھ لوگ مسلح جدوجہد کو پریشر گروپ کے طور پر حکومت اور ریاست کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں بلوچستان اور ملک بھر میں سرمایہ کاری کا عمل رک چکا ہے بلوچستان مسائل کا شکار ہے دنیا بھر میں تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ممکن ہوا ہے ریاست ماں ہے مجھے اصلاح کا موقع دے گی میں 15سال تک اس مسلح شورش کی تحریک کا حصہ رہا ہوں.