کراچی (آن لائن)سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان ایک خاص اشرافیہ کیلیے بنا ہے اور یہاں اسی کا قانون چلتا ہے،مردم شماری میں بتائی گئی پورے ملک میں آبادی کی 3 فیصد گروتھ کیسے ہوسکتی ہے؟،ملکی آبادی میں اضافے کا تناسب کچھ، کراچی میں کچھ اور، یہ سوالیہ نشان ہے۔کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ (ن) مفتاح اسماعیل نے دیجیٹل مردم شماری پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری میں پورے ملک کی 3 فیصد گروتھ کیسے ہو سکتی ہے؟ ہر سال 90 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ مجھے لگتا ہے موجودہ مردم شماری میں ابہام ہے، میں سمجھتا ہوں کہ پورے پاکستان میں پھر سے مردم شماری ہونی چاہئیے، ٹیبلٹ تو خریدے جا چکے ہیں اب 17 سے 18 ارب کا خرچہ ہوگا، اگر یہ خرچہ کر لیا جائے تو کوئی مسئلہ نہیں اور وہ پیسہ ملک میں ہی خرچ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ممکن نہیں کہ ملک میں 3 فیصد گروتھ ہو اور 90 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہوں، جب تک ملکی اشرافیہ کا نیکسس نہیں توڑا جائے گا حالات بہتر نہیں ہوں گے، ملک میں آبادی میں اضافے کا تناسب کچھ اور کراچی میں کچھ، یہ سوالیہ نشان ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ترقی پذیر ملکوں میں بھی سب سے نیچے آگئے، پاکستان ایک خاص اشرافیہ کیلیے بنا ہے اور اسی کا قانون چلتا ہے۔
Load/Hide Comments



