فیصل آباد(آن لائن)وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے کہا کہ میں نے قومی برآمدات کو بڑھانے کیلئے وزیر اعظم اور وزارت خزانہ کی مشاورت سے بجلی کے علاقائی طور پر مسابقتی ریٹ مقرر کئے تھے مگر آئی ایم ایف کی وجہ سے اُن کو واپس لینا پڑا۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری موجودہ حالات میں برآمدات کو بڑھانے کیلئے متفقہ اور قابل عمل پروگرام دیں تاکہ اُس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ آن لائن کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاکٹر خرم طارق سے برآمدی شعبہ کو درپیش مسائل اور حالیہ سبسڈی کے خاتمے سے پیدا ہونے والے مضر اثرات پر تبادلہ خیال کر تے ہو ئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں کے مفادات آپس میں متصادم ہیں اس لئے نجی شعبہ کو ایسا پروگرام تیار کرنا چاہیے جس پر نہ صرف تمام شعبے متفق ہوں اور اس سے برآمدات کو بھی بڑھایاجا سکے۔ اس موقع پر ڈاکٹر خرم طارق نے برآمدی اور خاص طور پر ٹیکسٹائل کے شعبہ کو درپیش مسائل کا پر اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ فیسکو کی ریکوری 99.2فیصد ہے مگر دوسری نا اہل کمپنیوں کے نقصانات ہم سے پور ے کئے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر خرم طارق نے کہا کہ سٹیٹ بینک کو ہدایت کی جائے کہ وہ اپنی ترجیحاتی فہرست میں شامل پٹرول اور خوردنی تیل کی درآمد Volumetricبنیادوں پر کرے۔ صرف اس فیصلے سے ہی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کیپٹو پاور پلانٹس کے بارے میں کہاکہ ایک یونٹ کی لاگت 7روپے اور دوسرے کی 15روپے فی یونٹ ہیں۔ جبکہ انرجی مکس کے بعد یہ 44روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اِن نقصانات اور تفرقات کو دور کرنا ہوگاتاکہ برآمدی شعبہ پر غیر ضروری دباؤ کو ختم کیا جا سکے۔
Load/Hide Comments



